تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 408

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ٧٠ سورة الفاتحة طرف کھینچا جاتا ہے۔ غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امد اور بانی پر نظر پڑتی ہے اسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکدر ہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذات عظمی کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمت گل اور ہر ایک ہستی کا ستون اور ہر یک درد کا چارہ اور ہر یک فیض کا مبدء دکھائی دیتی ہے آخر اس سے ایک صورت فنافی اللہ کی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے نہ اپنے نفس کی طرف نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اُس ہستی حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کا لعدم معلوم ہوتی ہے اس حالت کا نام خدا نے صراط مستقیم رکھا ہے جس کی طلب کے لئے بندہ کو تعلیم فرمایا اور کہا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی وہ راستہ فنا اور توحید اور محبت الہی کا جو آیات مذکورہ بالا سے مفہوم ہو رہا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور اپنے غیر سے بکلی منقطع کر ۔ خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش پیدا کرنے کے لئے وہ اسباب حقہ انسان کو عطا فرمائے کہ جو اس قدر دلی جوش پیدا کرتے ہیں کہ دعا کرنے والے کو خودی کے عالم سے بے خودی اور نیستی کے عالم میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات ہر گز نہیں کہ سورۃ فاتحہ دعا کے کئی طریقوں میں سے ہدایت مانگنے کا ایک طریقہ ہے بلکہ جیسا کہ دلائل مذکورہ بالا سے ثابت ہو چکا ہے در حقیقت صرف یہی ایک طریقہ ہے جس پر جوشِ دل سے دُعا کا صادر ہونا موقوف ہے اور جس پر طبیعت انسانی بمقتضا اپنے فطرتی تقاضا کے چلنا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا نے دوسرے امور میں قواعد مقررہ ٹھہرا رکھے ہیں ایسا ہی دعا کے لئے بھی ایک قاعدہ خاص ہے اور وہ قاعدہ وہی محرک ہیں جو سورۃ فاتحہ میں لکھے گئے ہیں اور ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہو سکے ۔ سوطبعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ پس سورہ ممدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو معہ محرکات اس کے کے بیان کیا ہے فتدبر ۔ پھر ایک دوسرا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کے لئے پورے پورے اسباب ترغیب بیان فرمائے ہیں کیونکہ ترغیب کامل جو معقول طور پر دی جائے ایک زبردست کشش ہے اور حصر عقلی کے رو سے ترغیب کامل اس ترغیب کا نام ہے جس میں تین مجریں موجود ہوں ۔ ایک یہ کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس کی ذاتی خوبی بیان کی جائے سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ہم کو وہ راستہ بتلا جو اپنی ذات میں صفت استقامت اور راستی سے موصوف ہے جس