تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 304

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له ولد سورة الفاتحة لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : (۳) یہ ایسی دعوت ہے کہ دعوت کا سامان پہلے سے تیار ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۶ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۴ء صفحه (۲) آن شریف کو جہاں سے شروع کیا ہے ان ترقیوں کا وعدہ کر لیا ہے جو بالطبع روح تقاضا کرتی ہے۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تعلیم کی ۔ اور فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ اے اللہ ہم کو صراط مستقیم کی ہدایت فرما۔ وہ صراط مستقیم جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے انعام واکرام ہوئے ۔ اس دُعا کے ساتھ ہی سورۃ البقر کی پہلی ہی آیت میں یہ بشارت دے دی ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ گو یا روحیں دُعا کرتی ہیں اور ساتھ ہی قبولیت اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اور وہ وعدہ دعا کی قبولیت کا قرآن مجید کے نزول کی صورت میں پورا ہوتا ہے۔ ایک طرف دُعا ہے اور دوسری طرف اس کا نتیجہ موجود ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے جو اس نے فرمایا۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء صفحه ۵ ) هذَا الدُّعَاءُ رَدُّ عَلى قَوْلِ الَّذِينَ یہ دعا اُن لوگوں کے خیال کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ يَقُولُونَ إِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ بِمَا هُوَ كَائِن جو کچھ ہونے والا ہے اُس پر قلم خشک ہو چکا ہے۔ پس فَلَا فَائِدَةَ فِي الدُّعَاءِ فَاللهُ تَبَارَكَ اب دُعا کا کوئی فائدہ نہیں۔ سو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وَتَعَالَى يُبَشِّرُ عِبَادَةَ بِقُبُولِ الدُّعَاءِ بندوں کو قبولیتِ دعا کی بشارت دیتا ہے۔ گویا وہ کہتا ہے کہ فَكَأَنَّهُ يَقُولُ يَا عِبَادِ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ اے میرے بندو! تم مجھ سے دُعا کرو۔ میں تمہاری دُعا لَكُمْ وَ إِنَّ فِي الدُّعَاءِ تَأْثِيرَاتٍ وَ قبول کروں گا ۔ اور دُعا میں یقیناً تاثیریں اور ( قضاء وقدر تَبْدِيلَاتٍ وَ الدُّعَاءُ الْمَقْبُولُ يُدْخِلُ کو بدلنے کی طاقتیں ہیں اور مقبول دُعا، دُعا کرنے الدَّاعِيَ فِي الْمُنْعَمِينَ 2 والے کو انعام یافتہ گروہ میں داخل کر دیتی ہے۔ وَفِي الْآيَةِ إِشَارَةٌ إِلى عَلَامَاتٍ تُعْرَفُ اس آیت میں اُن علامتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن بِهَا قُبُوْلِيَّةُ الدُّعَاءِ عَلَى طَرِيقِ الْإِصْطِفَاءِ سے اصطفاء کے طریق پر قبولیت دعا کی شناخت ہوتی ہے اور وَإِيْمَاءُ إِلَى أَثَارِ الْمُقَبَّلِيْنَ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ اس میں مقربین کے آثار کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ جب إِذَا أَحَبَّ الرَّحْمَنَ وَ قَوَّى الْإِيمَانَ فَذَالِكَ انسان خدائے رحمان سے محبت کرتا ہے اور اپنے ایمان کو پختہ الْإِنْسَانُ وَإِنْ كَانَ عَلَى حُسْنِ اعْتِقَادِ فِي کر لیتا ہے تو وہی حقیقی انسان ہوتا ہے اور اگر چہ اُسے اپنی أَمْرِ اسْتِجَابَةِ دَعَوَاتِهِ دعاؤں کی قبولیت کے بارہ میں پہلے بھی حسن اعتقاد ہو۔