تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 303
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة الفاتحة ان کی متفرق نعمتیں اس اُمتِ مرحومہ کو عطا کر دی ہیں۔ اور اس نے اس دُعا کو قبول کر لیا ہے جو قرآن شریف میں آپ سکھلائی تھی اور وہ یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ ہمیں وہ راہ دکھلا جو اُن راستبازوں کی راہ ہے جن پر تو نے ہر یک انعام اکرام کیا ہے۔ یعنی جنہوں نے تجھ سے ہر ایک قسم کی برکتیں پائی ہیں اور تیرے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے ہیں۔ اور تجھ سے دُعاؤں کی قبولیتیں حاصل کی ہیں اور تیری نصرت اور مدد اور راہ نمائی اُن کے شامل حال ہوئی ہے۔ اور ان لوگوں کی راہوں سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تیری راہ کو چھوڑ کر اور اور راہوں کی طرف چلے گئے ہیں۔ یہ وہ دُعا ہے جو نماز میں پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور یہ بتلا رہی ہے کہ اندھا ہونے کی حالت میں دنیا کی زندگی بھی ایک جہنم ہے اور پھر مرنا بھی ایک جہنم ہے اور در حقیقت خدا کا سچا تابع اور واقعی نجات پانے والا وہی ہو سکتا ہے جو خدا کو پہچان لے اور اُس کی ہستی پر کامل ایمان لے آوے اور وہی ہے جو گناہ کو چھوڑ سکتا ہے۔ اور خدا کی محبت میں محو ہو سکتا ہے۔ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۱، ۱۶۲) قرآن شریف صاف یہی ہدایت فرماتا ہے اور ہمیں سورہ فاتحہ ام الکتاب میں مثیل بن جانے کی امید دیتا ہے اور ہمیں تاکید فرماتا ہے کہ پنج وقت تم میرے حضور میں کھڑے ہو کر اپنی نماز میں مجھ سے یہ دعا مانگو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے میرے خداوند رحمن و رحیم ! ہمیں ایسی ہدایت بخش کہ ہم آدم صفی اللہ کے مثیل ہو جائیں ، شیث نبی اللہ کے مثیل بن جائیں ، حضرت نوح آدم ثانی کے مثیل ہو جائیں ، ابراہیم خلیل اللہ کے مثیل ہو جائیں، موسی کلیم اللہ کے مثیل ہو جائیں ، عیسی روح اللہ کے مثیل ہو جائیں اور جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ حبیب اللہ کے مثیل ہو جائیں اور دنیا کے ہر ایک صدیق و شہید کے مثیل ہو جائیں ۔ (ازالہ اوہام حصہ اول ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۹) قرآن شریف اپنے زبردست ثبوتوں کے ساتھ ہمارے دعوے کا مصد ق اور ہمارے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کر رہا ہے اور وہ گزشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بند کرتا ہے اور بنی اسرائیل کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ اسی نے یہ دعا تعلیم فرمائی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ۔ اس دُعا کا ماحصل کیا ہے۔ یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا ! نبیوں اور رسولوں کا مثیل بنا۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸۹، ۳۹۰) اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے تو اس طور پر نہیں کہ دُعا تو سکھا دی لیکن سامان کچھ نہیں۔ بلکہ جہاں دُعا سکھائی ہے وہاں سب کچھ موجود ہے چنانچہ اگلی سورت میں اس قبولیت کا اشارہ ہے جہاں فرمایا ذلِكَ الْكِتب