تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 286

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ سورة الفاتحة یہ تعلیم دے کر کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تمام سچے طالبوں کو خوشخبری دی کہ وہ اپنے رسول مقبول کی تبعیت سے اس علم ظاہری اور باطنی تک پہنچ سکتے ہیں کہ جو بالاصالت خدا کے نبیوں کو دیا گیا۔ انہیں معنوں کر کے تو علماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں اور اگر باطنی علم کا ورثہ ان کو نہیں مل سکتا تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے ہوئے۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۵۶، حاشیه در حاشیہ نمبر ۱ ) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پس یہ آیت صاف کہہ رہی ہے کہ اس اُمت کے بعض افراد کو گذشتہ نبیوں کا کمال دیا جائے گا اور نیز یہ کہ گذشتہ کفار کی عادات بھی بعض منکروں کو دی جائیں گی اور بڑی شدومد سے آئندہ نسلوں کی گذشتہ لوگوں سے مشابہتیں ظاہر ہو جائیں گی۔ چنانچہ بعینہ یہودیوں کی طرح یہودی پیدا ہو جائیں گے اور ایسا ہی نبیوں کا کامل نمونہ بھی ( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۲، ۳۸۳ حاشیه ) ظاہر ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس اُمت پر قیامت تک دروازه مکالمه مخاطبہ اور وحی الہی کا بند ہے تو پھر اس صورت میں کوئی امتی نبی کیونکر کہلا سکتا ہے کیونکہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس سے ہمکلام ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ اس اُمت پر یہ دروازہ ہرگز بند نہیں ہے اور اگر اس اُمت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو یہ اُمت ایک مردہ امت ہوتی اور خدا تعالیٰ سے دور اور مہجور ہوتی ۔ اور اگر یہ دروازہ اس اُمت پر بند ہوتا تو کیوں قرآن میں یہ دعا سکھلائی جاتی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۵۳) یا درکھنا چاہئے کہ جو مذہب آئندہ کمالات کے دروازے بند کرتا ہے وہ مذہب انسانی ترقی کا دشمن ہے۔ قرآن شریف کی رُو سے انسان کی بھاری دعا یہی ہے کہ وہ روحانی ترقیات کا خواہاں ہو۔ غور سے پڑھنا چاہئے اس آیت کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - الحکم جلد ۲ نمبر ۳۸ مؤرخه ۱۸ دسمبر ۱۸۹۸ صفحه (۳) یہ اسلام پر بھی ایک داغ ہے کہ بنی اسرائیل میں تو ایسے یقینی الہام ہوتے تھے جن کی وجہ سے حضرت موسیٰ کی ماں نے اپنے معصوم بچے کو دریا میں ڈال دیا اور اس الہام کی سچائی میں کچھ شک نہ کیا اور طنی نہ سمجھا۔ اور خضر نے ایک بچہ کو قتل بھی کر دیا۔ مگر اس اُمت مرحومہ کو وہ مرتبہ بھی نہ ملا جو بنی اسرائیل کی عورتوں کو