تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 285
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ سورة الفاتحة خلاف تعلیم کر رہی ہے اور خدا کو ملزم گردانتی ہے کہ ایک طرف تو وہ خود ہی کمالات کو بارہ امام تک ختم کرتا ہے اور پھر لوگوں کو قیامت تک اُن کے طلب کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دیکھو مایوس ہونا مومن کی شان نہیں ہوتی اور ترقیات اور مراتب قرب کی کوئی حد بست نہیں ہے یہ بڑی غلطی ہے کہ کسی فرد خاص پر ایک بات قائم کر دی جاوے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۲۲ ، ۲۳ مورخه ۸ تا ۱۶ رجون ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ کے حضور آتا ہے وہ خالی نہیں جاتا۔ پاکیزہ قلب ہونے کی ضرورت ہے ورنہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تعلیم اور تاکید بے فائدہ ہو جاتی ہے اگر وہ انعام اکرام اب کسی کو ملنے ہی نہیں ہیں تو پھر پانچ وقت اس دُعا کے مانگنے کی کیا حاجت ہے؟ یہ بڑی غلطی ہے جو مسلمانوں میں پھیل گئی ہے۔ حالانکہ یہی تو اسلام کا حسن اور خوبی تھی کہ اس کے برکات اور فیوض اور اس کی پاک تعلیم کے ثمرات تازہ بتازہ بہت مل سکتے ہیں۔ تمام صوفیوں اور ا کا برانِ اُمت کا یہی مذہب ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ کامل متبع ہوتا ہی نہیں جب تک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کو اندر نہ رکھتا ہو۔ اور حقیقت میں یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ کامل اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔ لازم ہے کہ اس کے ثمرات اپنے اندر پیدا کرے جب ایک شخص کامل اطاعت کرتا ہے اور گو اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں محو اور فنا ہو کر گم ہو جاتا ہے اس وقت اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے ایک شیشہ سامنے رکھا ہوا ہو۔ اور تمام و کمال عکس اس میں پڑے۔ میں کبھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور برکات اور ان تاثیرات کو اپنے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع سے ملتی ہیں محدود نہیں کر سکتا بلکہ ایسا خیال کرنا کفر سمجھتا ہوں۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) جبکہ بہر صورت ثابت ہے کہ خضر کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم یقینی اور قطعی دیا یقینی اور قطعی دیا گیا تھا۔ تو پھر کیوں کوئی شخص مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لاکر اس بات سے منکر رہے کہ کوئی فرد بشر امت محمدیہ میں سے باطنی کمالات میں خضر کی مانند نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ خدائے کی قیوم اس بات پر قادر ہے کہ اُمّتِ مرحومہ محمد یہ کے افراد خاصہ کو اس سے بھی بہتر و زیادہ تر باطنی نعمتیں عطا فرمادے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( البقرة : ۱۰۷) کیا اس خداوند کریم نے آپ ہی اس امت کو یہ دعا تعلیم نہیں فرمائی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۹۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱ )