تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 260
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۰ سورة الفاتحة اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم یہ ہے جو نفس سے اُن اخلاق رذیلہ کا قلع قمع کرنا اور صفت تخلی عن رذائل اور تحلی بالفضائل سے متصف ہونا یہ عملی صراط مستقیم ہے یہ توحید حالی ہے کیونکہ موحد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ تا اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے خالی کرے اور تا اُس کو فنا فی تقدس اللہ کا درجہ حاصل ہو۔ اور اُس میں اور حق العباد میں جو عملی صراط مستقیم ہے ایک فرق باریک ہے اور وہ یہ ہے جو عملی صراط مستقیم حق النفس کا وہ صرف ایک ملکہ ہے جو بذریعہ ورزش کے انسان حاصل کرتا ہے۔ اور ایک بامعنی شرف ہے خواہ خارج میں کبھی ظہور میں آوے یا نہ آوے۔ لیکن حق العباد جو عملی صراط مستقیم ہے وہ ایک خدمت ہے اور تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب افراد کثیرہ بنی آدم کو خارج میں اس کا اثر پہنچے اور شرط خدمت کی ادا ہو جائے غرض تحقق عملی صراط مستقیم حق العباد کا ادائے خدمت میں ہے اور عملی صراط مستقیم حق النفس کا صرف تزکیہ نفس پر مدار ہے کسی خدمت کا ادا ہونا ضروری نہیں یہ تزکیہ نفس ایک جنگل میں اکیلے رہ کر بھی ادا ہو سکتا ہے لیکن حق العباد بجز بنی آدم کے ادا نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے فرمایا گیا جو رہبانیت اسلام میں نہیں ۔ اب جاننا چاہئے جو صراط مستقیم علمی اور عملی سے غرض اصلی توحید علمی اور توحید عملی ہے یعنی وہ توحید جو بذریعہ علم کے حاصل ہو اور وہ توحید جو بذریعہ عمل کے حاصل ہو۔ پس یا درکھنا چاہئے جو قرآن شریف میں بجز توحید کے اور کوئی مقصود اصلی قرار نہیں دیا گیا اور باقی سب اُس کے وسائل ہیں ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳، ۴) گناہ سے تو جلالی رنگ اور ہیبت ہی سے بچ سکتا ہے جب یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزا میں شدید العذاب ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے تو انسان پر ایک ہیبت سی طاری ہو جائے گی جو اس کو گناہ سے بچالے گی اور جمال نیکیوں کی طرف جذب کرتا ہے جب کہ یہ معلوم ہو جائے کہ خدا تعالیٰ رب العالمین ہے رحمن ہے رحیم ہے تو بے اختیار ہو کر دل اس کی طرف کھینچا جائے گا اور ایک سرور اور لذت کے ساتھ نیکیوں کا صدور ہونے لگے گا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مؤرخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱) وَفِي الْآيَةِ إِشَارَةُ أُخْرَى وَهِيَ أَنَّ الصِّرَاطَ اس آیت میں ایک اور اشارہ ہے کہ صراط مستقیم الْمُسْتَقِيمَ هُوَ النِّعْمَةُ الْعُظمى وَرَأْسُ كُلِّ نعمتِ عظمیٰ ہے اور ہر نعمت کی جڑ ہے اور ہر عطا کا نِعْمَةٍ وَبَابُ كُلِّ مَا يُعْطَى وَيَنْتَابُ الْعَبْدَ دروازہ ہے اور جب بندہ کو یہ بڑی حکومت اور نہ مٹنے نِعَمُ اللهِ مُنْ أُعْطِيَ لَهُ هَذِهِ الدَّوْلَةُ الْكُبْرَى والی بادشاہت عطا کی جاتی ہے تو اُس پر اللہ کی نعمتیں