تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 249

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة الفاتحة 66 أَ لَا تَجِدُونَ فِيهَا آيَةً صِرَاطَ الَّذِينَ | کیا تم اس میں آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - فَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نہیں پاتے ؟ پس تم اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جو اپنی فَقَدُوا نُورَ عَيْنَيْهِمْ ، وَذَهَبَ بِمَا لَدَيْهِم دونوں آنکھوں کی روشنی کھو بیٹھے ہیں اور اُن کے پاس جو وَيُحَكُمْ وَهَلْ بَعْدَ الْفُرْقَانِ دَلِيلٌ أَوْ بَقِيَ کچھ تھا وہ سب اُن سے جاتا رہا۔ تم پر افسوس! کیا قرآن إِلَى مَفَرٍ مِنْ سَبِيلٍ أَيَقْبَلُ عَقْلُكُمْ أَنْ کریم کے بعد بھی اور کوئی دلیل ہے؟ یا گریز کا کوئی رستہ يُبَشِّرَ رَبُّنَا فِي هَذَا الدُّعَاءِ بِأَنَّهُ يَبْعَثُ باقی رہ جاتا ہے؟ کیا تمہاری عقل قبول کرتی ہے کہ اللہ الْأَئِمَّةَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِمَنْ يُرِيدُ طَرِيقَ تعالیٰ ہمیں اس دُعا میں بشارت دے کہ وہ اُن لوگوں کے الْاهْتِدَاءِ الَّذِينَ يَكُونُونَ كَمِثْلِ لئے جو ہدایت کی راہ کے طالب ہیں اسی امت میں سے أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْاِجْتِبَاءِ وَ ایسے ائمہ کو مبعوث کرے گا جو پسندیدہ اور برگزیدہ ہونے الْإِصْطِفَاءِ وَيَأْمُرُنَا أَنْ تَدْعُوَ أَنْ تَكُونَ کے لحاظ سے بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تَكُونَ ہمیں حکم دے کہ ہم یہ دُعا کریں کہ ہم بنی اسرائیل کے كَأَشْقِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ثُمَّ بَعْدَ هَذَا نبیوں کی مانند ہو جائیں اور بنی اسرائیل کے بدبختوں کی يَدُعُنَا وَيُلْقِيْنَا فِي وِهَادِ الْحِرْمَانِ طرح نہ ہوں اور پھر اس کے بعد ہمیں دھکے دے کر محرومی وَيُرْسِلُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ کے گڑھے میں پھینک دے۔ وہ ہماری طرف بنی اسرائیل وَيَنْسَى وَعْدَهُ كُلَّ النِّسْيَانِ، وَهَلْ هَذَا میں سے ایک رسول بھیج دے اور اپنا وعدہ پوری طرح إِلَّا الْمَكِيدَةُ الَّتِي لَا يُنْسَبُ إِلَى اللهِ بھول جائے ۔ یہ ایسی فریب رہی ہے جو ہرگز خدائے محسن الْمَثَانِ وَإِنَّ اللهَ قَدْ ذَكَرَ فِي هَذِهِ السُّورَةِ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ثَلَاثَةَ أَحْزَابٍ مِنَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ وَ تین گروہوں کا ذکر کیا ہے یعنی منعم علیہم ، یہود اور الْيَهُودِ وَ النَّصْرَانِيِّينَ وَرَغَبَنَا فِي الْحِزْبِ نصاری کا۔ اور ہمیں ان میں سے پہلے گروہ میں شامل ہونے الْأَوَّلِ مِنْهَا وَنَهى عَنِ الْآخَرَيْنِ بَل کی ترغیب دی ہے اور باقی دونوں گروہوں میں شامل ہونے حَثْنَا عَلَى الدُّعَاءِ وَالتَّضَرْعِ وَالْابْتِهَالِ سے روکا ہے ۔ بلکہ ہمیں دُعا، عاجزی اور انکساری کی ترغیب لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْعَمِ عَلَيْهِمْ لَا مِنَ دی ہے تا کہ ہم منعم عليهم ( گروہ میں ) سے ہو الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَأَهْلِ الضَّلَالِ جائیں نہ کہ مغضوب علیہم اور ضالین میں سے۔