تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 210
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الفاتحة عَظْمَةِ شَرِّ النَّفْسِ الْأَمَّارَةِ الَّتِي تَسْعَى | نیکیوں کی طرف راغب ہونے سے یوں بھاگتا ہے ۔ جیسے كَالْعَشَارَةِ فَكَأَنَّهَا أَفْعَى شَرُّهَا قَدْ طَمَّ ان سدھی اونٹنی سوار کواپنے اوپر بیٹھنے نہیں دیتی۔ اور بھاگتی ہے۔ فَجَعَلَ كُلَّ سَلِيمٍ كَعَظْمٍ إِذَا رَمَّ وَ یا وہ ایک اثر دہا کی طرح ہے جس کا شہر بہت بڑھ گیا ہے اور تَرَاهَا تَنْفُتُ السَّمَّ أَوْ هِيَ ضِرْغام ما اس نے ہرڈ سے ہوئے کو بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا دیا ہے اور تو يَنْكُلُ إِنْ هَمَّ وَلَا حَوْلَ وَلا قُوَّةً وَلا دیکھ رہا ہے کہ وہ زہر پھونک رہا ہے یا وہ شیر ( کی طرح) ہے كَسْبَ وَلَا لَهُ إِلَّا بِاللهِ الَّذِي هُوَ يَرْجُم کہ اگر حملہ کرے تو پیچھے نہیں ہٹتا۔ کوئی طاقت ، قوت، کمائی، الشَّيَاطِينَ اندوختہ (کارآمد ) نہیں سوائے اس خدا تعالیٰ کی مدد کے جو شیطانوں کو ہلاک کرتا ہے۔ وَ فِي تَقْدِيمِ نَعْبُدُ عَلَى نَسْتَعِينُ اور نَعْبُدُ و نَسْتَعِین سے پہلے رکھنے میں اور بھی کئی نکات نِكَاتٌ أُخْرَى فَنَكْتُبُ لِلَّذِينَ هُمْ ہیں جنہیں ہم ان لوگوں کے لئے یہاں لکھتے ہیں جو سارنگیوں مَشْغُوفُونَ بِآيَاتِ الْمَثَانِي لَا بِرَئَاتِ کی رُوں رُوں پر نہیں بلکہ قرآنی آیات مثانی ( سورۃ فاتحہ ) الْمَثَانِي وَيَسْعَوْنَ إِلَيْهَا شَائِقِينَ وَهِيَ سے شغف رکھتے ہیں ۔ اور مشتاقوں کی طرح ان کی طرف لپکتے أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَلِّمُ عِبَادَهُ دُعَاءَ ہیں اور وہ ( نکات ) یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک فِيْهِ سَعَادَتُهُمْ فَيَقُولُ يَا عِبَادِ سَلُونِی ایسی دُعا سکھاتا ہے جس میں ان کی خوش بختی ہے اور کہتا ہے بِالْإِنْكِسَارِ وَالْعُبُودِيَّةِ وَقُولُوا رَبَّنَا اے میرے بندو! مجھ سے عاجزی اور عبودیت کے ساتھ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلكِنْ بِالْمُعَانَاةِ وَالتَّكَلُفِ سوال کرو اور کہو اے ہمارے رب ! إِيَّاكَ نَعْبُدُ ( ہم تیری وَ التَّحَشُمِ وَتَفْرِقَةِ الْخَاطِرِ وَ ہی عبادت کرتے ہیں لیکن بڑی ریاضت، تکلیف، تَمْوِيهَاتِ الْخَنَّاسِ وَبِالرَّوِيَّةِ النَّاضِبَةِ شرمساری پریشان خیالی اور شیطانی وسوسہ اندازی اور وَالْأَوْهَامِ النَّاصِبَةِ وَ الْخَيَالَاتِ خشک افکار اور تباہ کن اوہام اور تاریک خیالات کے ساتھ ہم الْمُظْلِمَةِ كَمَاءٍ مُكَذِّرٍ مِنْ سَيْلٍ أَوْ سیلاب کے گدلے پانی کی مانند ہیں یا رات کو لکڑیاں اکٹھا كَعَاطِبٍ لَيْلٍ وَإِنْ تَتَّبِعُ إِلَّا ظَنَّا وَمَا کرنے والے کی طرح ہیں اور ہم صرف گمان کی پیروی کر رہے نَحْنُ مُسْتَيْقِنِينَ ہیں۔ ہمیں یقین حاصل نہیں ۔ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ يَعْنِي نَسْتَعِينُكَ (اور پھر ) وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہو۔ یعنی ہم تجھ سے ہی مدد