تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 183

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ سورة الفاتحة الْمَسَاجِدُ وَ حُفِظَ السَّاجِدُ وَفُتِحَ کی حفاظت کی گئی ہے اور امن اور دعوت وتبلیغ کے دروازے أَبْوَابُ الْأَمْنِ وَالتَّبْلِيغِ وَالدَّعْوَةِ وَمَا کھل گئے ہیں اور یہ سب رحیمیت ہی کا فیضان ہے۔ پس ہم هُوَ إِلَّا فَيْضُ الرَّحِيمِيَّةِ فَوَجَبَ عَلَيْنَا پر واجب ہے کہ ہم گواہی دیں کہ یہ وہ وسائل و ذرائع ہیں أَن نَّشْهَدَ أَنَّهَا وَسَائِلُ لَا يُوجَدُ نَظِيرُهَا جن کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں ملتی اور یہ ایسی توفیق اور فِي الْقُرُونِ الْأُولَى وَ أَنَّهُ تَوْفِيقُ وَ آسانی میسر آ گئی ہے جس کی نظیر نہ کبھی کانوں نے سُنی اور نہ تَيْسِيرُ مَا سَمِعَ نَظِيرَهُ أُذُنٌ وَ مَا رَأَى ہی اس کا نمونہ آنکھوں نے کبھی دیکھا پس تم ہمارے ربّ مِثْلَهُ بَصَرْ فَانْظُرْ إِلى رَحِيمِيَّةِ رَبَّنَا اعلیٰ کی رحیمیت ) کی شان ) ملاحظہ کرو۔ یہ اسی کی رحیمیت الْأَعْلَى وَمِنْ رَحِيمِيَّتِهِ أَنَّا قَدَّرْنَا عَلَى ) کی ہی برکت ہے کہ ہمارے لئے ممکن ہو گیا ہے کہ چند أَن نَّطْبَعَ كُتُبَ دِينِنَا فِي أَيَّامٍ مَّا كَانَ دنوں میں ہی اپنے مذہب کی اس قدر کتا بیں طبع کر دیں جو مِنْ قَبْلُ فِي وُسْعِ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَكْتُبُوهَا - اس سے قبل ہمارے بزرگ ( کئی ) سالوں میں بھی نہیں لکھ فِي أَعْوَامٍ وَ إِنَّا نَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَطَّلِعَ عَلی سکتے تھے۔ اور اب ہمیں یہ بھی مقدرت ہے کہ ہم دور دور أَخْبَارِ أَقْصَى الْأَرْضِ ضِ فِي سَاعَاتٍ * و کے ملکوں کی خبریں ( چند ) گھنٹوں میں معلوم کر لیں جن کا مَا قَدَرَ عَلَيْهِ السَّابِقُونَ إِلَّا لِشِقِ ** حصول ہم سے پہلے لوگوں کے لئے سالہا سال تک اپنی الْأَنْفُسِ وَبَلِ الْجُهْدِ إِلَى إلى سَنَوَاتٍ وَقَدْ جانوں کو مشقت میں ڈالنے اور بڑی کوشش کے بغیر ممکن نہیں فُتِحَ عَلَيْنَا فِي كُلِّ خَيْرٍ أَبْوَابُ الرُّبُوبِيَّةِ ہو سکا ۔ یقیناً ہر بھلائی کے (حاصل کرنے کے لئے ) ہم پر وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ وَ كَثُرَتْ ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت کے دروازے کھل گئے ہیں طُرُقُهَا حَتَّى خَرَجَ إِحْصَاتُهَا مِنَ الطَّاقَةِ اور اس کے لئے اس قدر زیادہ راستے پیدا ہو گئے ہیں کہ ان الْبَشَرِيَّةِ وَأَيْنَ تَيَسَّرَ هَذَا لِلسَّابِقِينَ کا شمار انسانی طاقت سے باہر ہے۔ پہلے دعوت و تبلیغ کرنے مِنْ أَهْلِ التَّبْلِيغِ وَالدَّعْوَةِ وَ أَنَّ والوں کو یہ آسانیاں ) کہاں میسر تھیں؟ پس زمین ہماری الْأَرْضَ زُلْزِلَتْ لَنَا زِلْزَالًا فَأَخْرَجَتْ خاطر خوب جھنجھوڑی گئی ہے اور اس نے اپنے بوجھ (یعنی أَثْقَالًا وَفُجَرَتِ الْأَنْهَارُ وَ سُجِرَتِ خزانے) باہر نکال پھینکے ہیں۔ نہریں جاری کی گئی ہیں۔ دریا الحاشية - كما قال الله تعالى يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (الزلزال: ۵) - منه (ترجمہ: جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا یعنی اس دن وہ ( زمین ) اپنی ساری ہی پوشیدہ ) خبریں بیان کر دے گی ۔) سہو کتابت ہے درست بشق الانفس ہے ( ناشر ) ** سہو