تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 182
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة الفاتحة وَتَرَوْنَ أَنَّهُ كَيْفَ خَلَقَ أَسْبَابًا جَدِيدَةً و تم پاتے ہو کہ اس نے کس طرح نئے نئے ذرائع اور مفید وَسَائِلَ مُفِيدَةً وَ صَنَائِعَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا فِيمَا وسائل پیدا کئے ہیں۔ ایسی صنعتیں جن کی مثال گذشتہ مَطَى وَعَجَائِبَ لَمْ يُوجَدُ مِثْلُهَا فِي زمانوں میں نہیں دیکھی گئی ایسے عجائبات ( پیدا کئے الْقُرُونِ الْأُولَى وَتَرَوْنَ تَجَدُّدًا فِي كُلِّمَا ہیں جن کا نمونہ قرونِ اولیٰ میں نہیں پایا جاتا اور تمہیں يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَافِرِ وَ النَّزِيلِ وَالْمُقِيمِ اس زمانہ کی تمام چیزوں میں ایک جدت دکھائی دے رہی وَابْنِ السَّبِيلِ وَ الصَّحِيحِ وَالْعَلِيْلِ ہے جو مسافر یا قیام پذیر، سکونتی یا پرد پردیسی، تندرست یا وَالْمُحَارِبِ وَ الْمُصَالِحَ الْمُقِيلِ بیمار، جنگجو یا معاف کرنے والے صلح جو، قیام یا کوچ کی وَالْإِقَامَةِ وَالرَّحِيلِ وَ جَميع أَنْوَاعِ حالت اور تمام قسم کی نعمتوں اور مشکلات سے تعلق رکھتی النَّعْمَاءِ وَ الْعَرَاقِيلِ كَأَنَّ الدُّنْيَا بُلِلَتْ ہے گویا آج دنیا مکمل طور پر بدل دی گئی ہے۔ بیشک یہ كُلَّ التَّبْدِيلِ فَلَا شَكَ أَنَّهَا رُبُوبِيَّةٌ عظیم ربوبیت اور اعلی رحمانیت ( کا فیض ) ہے اسی طرح عُظمى وَرَحْمَانِيَّةٌ كُبرى وَ كَذَالِك تم دینی معاملات میں بھی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت تَرَى الرُّبُوبِيَّةَ وَالرَّحْمَانِيَّةَ وَالرَّحِيمِيَّةَ فِي ( کے فیوض ) دیکھو گے۔ یقیناً علوم الہیہ کے طالبوں کے الْأُمُورِ الدِّينِيَّةِ وَقَدْ يُسْرَ كُلُّ أَمْرٍ لئے ہر بات آسان کر دی گئی ہے اور تبلیغ کا کام اور روحانی لِطُلَبَاءِ الْعُلُومِ الْإِلَهِيَّةِ وَ يُسْرَ أَمْرُ علوم کی اشاعت کا کام بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔ اور ہر التَّبْلِيغِ وَ أَمْرُ إِشَاعَةِ الْعُلُومِ اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور اس الرُّوْحَانِيَّةِ وَأُنْزِلَتِ الْآيَاتُ لِكُلِّ مَنْ کی بارگاہ سے اطمینان ( قلب ) کا متلاشی ہے کھلی کھلی يَعْبُدُ اللهَ وَيَبْتَغِي السَّكِينَةَ مِنَ الْحَضْرَةِ۔ نشانیاں اتاری گئی ہیں۔ چاند اور سورج کو رمضان کے وَالْكَسَفَ الْقَمَرُ وَالشَّمْسُ فِي رَمَضَانَ وَ مہینہ میں گرہن لگ چکا ہے۔ اونٹنیاں بیکار کر دی گئی ہیں عُقِلَتِ الْعِشَارُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا إِلَّا اور سوائے شاذ و نادر کے ان سے تیز رفتاری کا کام نہیں لیا بِالنُّدْرَةِ وَسَوْفَ تَرَى الْمَرْكَبَ الْجَدِيدَ جاتا۔ کچھ عرصہ کے بعد تم مدینہ اور مکہ کے رستہ میں بھی نئی فِي سَبِيلِ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَأَيَّدَ سواری دیکھ لو گے اور علماء اور طلباء کے لئے کتابوں کی الْعَالِمُونَ وَالطَّالِبُونَ بِكَثْرَةِ الْكُتُبِ کثرت اور حصولِ علم اور معرفت کے بہت سے ذرائع مہیا وَأَنْوَاعِ أَسْبَابِ الْمَعْرِفَةِ وَعُمر کئے گئے ہیں ۔ مسجد میں آباد کی گئی ہیں اور عبادت گزاروں