تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 175
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۵ سورة الفاتحة الآية۔ میں ۔ پس اس آیت کے الفاظ پر غور کریں۔ وَسيَ زَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ مسیح موعود کے زمانہ کا نام اس لئے بھی یوم الدین رکھا گیا يَوْمَ الدِّينِ لِأَنَّهُ زَمَانٌ يُحْيِي فِيهِ الدِّين کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس میں دین کو زندہ کیا جائے گا اور لوگوں وَتُحْشَرُ النَّاسُ لِيُقْبِلُوا بِالْيَقِينِ وَلَا کو اس امر پر مجتمع کیا جائے گا کہ وہ ( دلی ) یقین کے ساتھ شَكَ وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ رَبُّي زَمَانَنَا هَذَا آگے بڑھیں ۔ اور اس میں نہ کوئی شبہ ہے اور نہ ہی (کسی بِأَنْوَاعِ التَّرْبِيَةِ وَأَرَانَا كَثِيرًا من کو) کچھ اختلاف ( ہو سکتا ) ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس فُيُوضِ الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ كَمَا زمانہ کی کئی طریق سے تربیت فرمائی ہے اور رحمانیت اور أَرَى السَّابِقِيْنَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ رحیمیت کے بہت سے فیوض ہمیں دکھائے ہیں جیسا کہ اس وَ أَرْبَابِ الْوَلَايَةِ وَالْخُلَةِ وَ بَقِيَتِ نے پہلے نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور اپنے دوستوں کو دکھائے الصَّفَةُ الرَّابِعَةُ مِنْ هَذِهِ الصَّفَاتِ تھے۔ ان صفات میں سے اب صرف چوتھی صفت باقی رہ أَعْنِي التَّجَنِّي الَّذِي يُظْهَرُ فِي حُلَّةِ مَلِكٍ گئی ۔ میری مراد اس سے خدا تعالیٰ کی وہ تجلتی ہے جس کا ظہور أَوْ مَالِكَ فِي يَوْمِ الدِّينِ لِلْمُجَازَاتِ بادشاہ یا مالک کے لباس میں جزا سزا دینے کے لئے یوم جزا فَجَعَلَهُ لِلْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ كَالْمُعْجِزَاتِ میں ہوگا ۔ لہٰذا خدا تعالیٰ نے اس (تجلی ) کو مسیح موعود کے وَ جَعَلَهُ حَكَمًا وَ مَظْهَرًا لِلْحُكُومَةِ لئے معجزات کی طرح قرار دیا اور اُسے ( مسیح موعود کو ) غیبی السَّمَاوِيَّةِ بِتَأْبِيدٍ مِنَ الْغَيْبِ تائید اور چمکتے نشانوں کے ساتھ حکم اور آسمانی حکومت کا وَالْآيَاتِ وَ سَتَعْلَمُ عِنْدَ تَفْسِيرِ نمائندہ بنایا ۔ اے مخاطب ! تجھے عنقریب انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ الْحَقِيقَةَ، وَ مَا تفسیر کے موقع پر اس حقیقت کا علم ہو جائے گا اور میں نے یہ قُلْتُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِي بَلْ أُعْطِيْتُ مِنْ باتیں اپنے پاس سے نہیں کہیں بلکہ یہ باریک نکات مجھے لَّدُنْ رَّبِّي هَذِهِ النِّكَاتِ الدَّقِيْقَةَ۔ اپنے رب کی طرف سے عطا کئے گئے ہیں ۔ وَمَنْ تَدَبَّرَهَا حَقَّ التَّدَبُرِ وَفَكَّرَ فِي جو شخص ان ( نکات) میں پورا تدبر کرے گا اور ان هُذِهِ الْآيَاتِ عَلِمَ أَنَّ اللهَ أَخْبَرَ فِيهَا آیات میں غور و فکر سے کام لے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ عَنِ الْمَسِيحِ وَمِنْ زَمَنِهِ الَّذِي هُوَ ان میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور اس کے زمانہ کے متعلق خبر زَمَنُ الْبَرَكَاتِ ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ دی ہے جو بڑا بابرکت ہے۔ پھر واضح رہے کہ یہ آیات گویا 66