تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 174
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة الفاتحة الْعَامِلِينَ فَأَثْبَتَ بِهَا أَنَّهُ أَرْحَمُ انعامات کو انتہاء تک پہنچایا اور اس فیض کے ذریعہ ثابت کر دیا الرَّاحِمِينَ ثُمَّ أَرَاهُمْ عِنْدَ عَمَلِهِمْ کہ وه أَرْحَمُ الرَّحِمِین ہے۔ پھر اُس نے اپنی صفت رحیمیت بِرَحْمَةٍ مِنْهُ أَيَادِيَ حِمَايَتِهِ - وَأَيَّدَهُمْ کے ذریعہ ان کے عمل کے وقت میں انہیں اپنی حمایت کے بِرُوحِ مِنْهُ بِعِنَايَتِهِ ، وَ وَهَبَ لَهُمْ ہاتھ دکھائے اور اپنی مہربانی سے روح القدس کے ساتھ ان نُفُوسًا مُطْمَئِنَّةً وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِمْ کی مدد کی ۔ ان کو نفوسِ مطمئنہ عطا فرمائے اور ان پر دائمی سَكِينَةً دَائِمَةً ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرِيَهُمْ سکینت نازل کی ۔ پھر اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اپنی صفت تُمُوْذَجَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فَوَهَبَ لَهُمُ مالک یوم الدین کا نمونہ بھی دکھائے تو اُس نے انہیں الْمُلْكَ وَ الْخِلَافَةَ وَ أَلْحَقَ أَعْدَاءَهُمْ حکومت اور خلافت بخشی اور ان کے دشمنوں کو ( پہلے ) ہلاک بِالْهَالِكِينَ، وَأَهْلَكَ الْكَافِرِينَ وَأَزْعَجَهُمْ ہونے والوں کے ساتھ ملا دیا۔ کافروں کو تباہ کر دیا اور انہیں إِزْعَاجًا ثُمَّ أَرَى نَمُوذَجَ النُّشُورِ پوری طرح ملیا میٹ کر دیا۔ پھر اس نے حشر کا نمونہ دکھایا فَأَخْرَجَ مِنَ الْقُبُورِ إِخْرَاجًا فَدَخَلُوا فِي اور (روحانی لحاظ سے ) قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کو دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا وَ بَدَرُوا إِلَيْهِ فُرَادَی وَ باہر نکالا پس وہ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل أَزْوَاجًا فَرَأَى الصَّحَابَةُ أَمْوَاتًا يَلْفُونَ ہو گئے ۔ اور اس کی طرف فرداً فرداً اور گروہ در گروہ دوڑ حَيَاةً وَ رَأَوْا بَعْدَ الْمَحْلِ مَاءًا فَجَاجًا و پڑے ۔ پس صحابہؓ نے مُردوں کو زندہ ہوتے دیکھا، اور سمِي ذَالِكَ الزَّمَانُ يَوْمَ الدِّينِ لِأَنَّ امساک باراں کے بعد موسلا دھار بارش دیکھی اور اس الْحَقِّ حَصْحَصَ فِيْهِ وَدَخَلَ فِي الدِّينِ زمانہ کا نام يَوْمُ الدِّین رکھا گیا۔ کیونکہ اس (زمانہ) میں أَفْوَاجُ مِنَ الْكَافِرِينَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُرِيَ حق ظاہر ہو گیا اور کافروں میں سے فوج در فوج لوگ دین نَمُوذَجَ هَذِهِ الصَّفَاتِ فِي آخِرِينَ مِنَ (اسلام) میں داخل ہوئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اُمت الْأُمَّةِ لِيَكُونَ أَخِرُ الْمِلَّةِ كَمِثْلِ أَوَّلِهَا (محمد یہ ) کے آخری دور میں بھی ان صفات کا نمونہ دکھائے ، فِي الْكَيْفِيَّةِ وَلِيَتِمَّ أَمْرُ الْمُشَابَهَةِ تا بلحاظ کیفیت ملت کا آخری حصّہ پہلے حصّہ کی طرح ہو بِالْأُمَمِ السَّابِقَةِ كَمَا أُشِيْرَ إِلَيْهِ فِي هَذِهِ جائے اور تا گذشتہ اُمتوں کے ساتھ (اس اُمت کی ) مشابہت السُّورَةِ أَعْنِي قَوْلَهُ صِرَاطَ الَّذِينَ پوری ہو جائے ۔ جس کی طرف اس سورت میں اشارہ کیا گیا ہے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، فَتَدَبَّرُ أَلْفَاظَ هَذِهِ یعنی ارشاد باری تعالیٰ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ