تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 172
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ سورة الفاتحة أخَرُ الْفُيُوْضِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ وَمَا ذُكِرَ | فیض ہے۔ اور اس کے بعد سب عالموں سے زیادہ فَيْضٌ بَعْدَهُ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْلَمِ الْعَالِمِينَ وَ علم رکھنے والے خدا کی کتاب میں کسی اور فیض کا ذکر الْفَرْقُ فِي هَذَا الْفَيْضِ وَفَيْضِ الرَّحِيمِيَّةِ أَنَّ نہیں کیا گیا۔ اس فیض اور رحیمیت کے فیض میں یہ الرَّحِيمِيَّةَ تُبَلِّغُ السَّالِكَ إِلى مَقَامٍ هُوَ وَسِيلَةُ فرق ہے کہ رحیمیت سالک کو اس مقام تک پہنچاتی النِّعْمَةِ وَأَمَّا فَيْضُ الْمَالِكِيَّةِ بِالْمَجَازَاتِ ہے جو نعمت ملنے کا وسیلہ ہے باقی رہا جزا سزا کے فَهُوَ يُبَلِّغُ السَّالِكَ إِلى نَفْسِ النِّعْمَةِ وَإِلى مالك کا فیض ، سو وہ سالک کو حقیقی نعمت اور آخری مُنْتَهَى الثَّمَرَاتِ وَغَايَةُ الْمُرَادَاتِ وَ أَقْصَى ثمرہ اور مرادوں کی انتہا اور مقاصد کی آخری حد تک الْمَقْصُودَاتِ فَلَا خَفَاءَ أَنَّ هَذَا الْفَيْضَ هُوَ پہنچا دیتا ہے ۔ پس ظاہر ہے کہ بارگاہ ایزدی کے أخَرُ الْفُيُوْضِ مِنَ الْحَضْرَةِ الْأَحَدِيَّةِ وَلِلنَّشْأَةِ فیوض میں سے یہ انتہائی فیض ہے اور انسانی پیدائش الْإِنْسَانِيَّةِ كَالْعِلَّةِ الْغَائِيَّةِ وَعَلَيْهِ يَتِمُّ کی علت غائی ہے۔ اور اس پر تمام نعمتیں ختم ہو جاتی النِّعَمُ كُلُّهَا وَ تَسْتَكْمِلُ بِهِ دَائِرَةُ الْمَعْرِفَةِ ہیں۔ اور اس پر دائرہ معرفت اور دائرہ سلسلہ مکمل ہو وَدَائِرَةُ السِّلْسِلَة۔ シ جاتا ہے۔ أَلَا تَرَى أَنَّ سِلْسِلَةَ خُلَفَاءِ مُوسَى انْتَهَتْ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خلفائے موسیٰ کا سلسلہ إِلَى نُكْتَةِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ فَظَهَرَ عِيسَى مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے نکتہ پر ختم ہو گیا تھا۔ چنانچہ فِي آخِرِهَا وَ بَيلَ الْجَوْرُ وَالظُّلْمُ بِالْعَدْلِ اس سلسلہ کے آخر میں حضرت عیسی آئے اور ظلم وجور وَالْإِحْسَانِ مِنْ غَيْرِ حَرْبٍ وَ مُحَارِبِينَ كَمَا کو بغیر کسی لڑائی اور لڑنے والوں کے عدل و احسان يُفْهَمُ مِنْ لَفْظِ الدِّينِ فَإِنَّهُ جَاءَ بِمَعْنَى الْحِلْمِ سے بدل دیا گیا۔ جیسا کہ الدین کے لفظ سے سمجھا وَالرَّفْقِ فِي لُغَةِ الْعَرْبِ وَ عِنْدَ أَدَبَائِهِمْ أَجْمَعِينَ جاتا ہے۔ کیونکہ لغت عرب اور اہلِ عرب کے سب فَاقْتَضَتْ هُمَا ثَلَةٌ نَبِيِّنَا بِمُوسَى الْكَلِيمِ ادیبوں کے نزدیک یہ لفظ بردباری اور نرمی کے وَمُشَابَهَهُ خُلَفَاءِ مُوسَى بِخُلَفَاءِ نَبِيِّنَا معنوں میں آیا ہے۔ پس ہمارے نبی اکرم صلی اللہ الْكَرِيمِ أَنْ يَظْهَرَ فِي آخِرِ هَذِهِ السّلْسِلَةِ رَجُلٌ علیہ وسلم کی موسی کلیم اللہ سے مماثلت اور خلفائے يُشَابِهُ الْمَسِيحَ وَيَدْعُو إِلَى اللهِ بِالْحِلْمِ وَيَضَعُ موسیٰ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء سے الْحَرْبَ وَيَقْرِبُ السَّيْفَ الْمُجِيحَ فَيَحْشُرُ مشابہت نے چاہا کہ اس سلسلہ (محمدی) کے آخر