تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 171

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۱ سورة الفاتحة الرَّحْمَانِيَّةِ وَذَكَرَهُ اللهُ بِقَوْلِهِ الرَّحْمٰنِ | اس کا ذکر اپنے قول الرحمن میں کیا ہے۔ اور اسے جمادی وَخَصَّهُ بِذَوِي الرُّوحِ مِنْ دُونِ الْأَجْسَامِ اور نباتی اجسام کو چھوڑ کر صرف جاندار چیزوں سے وابستہ الْجَمَادِيَّةِ وَ الثَّبَاتِيَّةِ ثُمَّ بَعْدَ ذَالِكَ کیا ہے۔ پھر اس کے بعد ایک فیض خاص ہے اور وہ فَيْضُ خَاصٌ وَهُوَ فَيْضُ صِفَةِ صفت رحیمیت کا فیض ہے۔ اور یہ فیض صرف اسی انسان الرَّحِيمِيَّةِ وَلَا يَنْزِلُ هُذَا الْفَيْضُ إِلَّا پر نازل ہوتا ہے جو فیوض منتظرہ کے حاصل کرنے کے عَلَى النَّفْسِ الَّتِي سَعَى سَعْتِهَا لِكَسْبِ لئے اپنی پوری کوشش کرے۔ اس وجہ سے یہ فیض انہی الْفُيُوْضِ الْمُتَرَقِّبَةِ وَلِذَالِك يَخْتَصُّ لوگوں سے مخصوص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور بِالَّذِينَ آمَنُوا وَأَطَاعُوا رَبَّا كَرِيمًا كَما انہوں نے رب کریم کی اطاعت کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے صُرِحَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ كلام وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا میں تصریح کر دی گئی رَحِيمًا ، فَثَبَتَ بِنَضِ الْقُرْآنِ أَنَّ ہے۔ پس نص قرآن سے ثابت ہوا کہ رحیمیت صرف الرَّحِيمِيَّةَ مَخصُوصَةٌ بِأَهْلِ الْإِيمَانِ وَأَمَّا ایمانداروں سے مخصوص ہے۔ مگر رحمانیت کا دائرہ الرَّحْمَانِيَّةُ فَقَدْ وَسِعَتْ كُلَّ حَيَوَانِ مِنَ حیوانات میں سے ہر حیوان تک وسیع ہے۔ یہاں تک کہ الْحَيَوَانَاتِ حَتَّى إِنَّ الشَّيْطَانَ نَالَ نَصِيبًا شیطان نے بھی پروردگار عالم کے حکم سے اس فیض مِنْهَا بِأَمْرِ حَضْرَةِ رَبِّ الْكَائِنَاتِ رحمانیت سے حصہ پایا۔ 66 وَ حَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ الرَّحِيمِيَّةَ حاصل کلام یہ ہے کہ رحیمیت ان فیوض سے تعلق رکھتی تَتَعَلَّقُ بِفُيُوْضٍ تَتَرَتَّبُ عَلَى الْأَعْمَالِ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتے ہیں۔ اور کافروں اور وَيَخْتَصُّ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ دُونِ الْكَافِرِينَ گمراہوں کو چھوڑ کر یہ صرف مومنوں سے خاص ہے۔ پھر وَأَهْلِ الضَّلَالِ، ثُمَّ بَعْدَ الرَّحِيمِيَّةِ فَيْضٌ رحیمیت کے بعد ایک اور فیض ہے اور وہ جزائے کامل اور آخَرُ وَهُوَ فَيْضُ الْجَزَاءِ الْأَتَمِ وَالْمُكَافَاتِ۔ بدلہ دینے کا فیض ہے اور نیک لوگوں کو ان کی نیکیوں اور وَإِيْصَالُ الصَّالِحِينَ إلى نَتِيجَةِ اعمال حسنہ کے نتیجہ تک پہنچانے کا نام ہے۔ اسی کی طرف الصَّالِحَاتِ وَالْحَسَنَاتِ وَإِلَيْهِ أَشَارَ عَزَّ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں اشارہ اسْمُهُ بِقَوْلِهِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، وَ إِنَّهُ فرمایا ہے ۔ اور یہ فیض پروردگار عالم عالم الم کی طرف سے آخری (الاحزاب: ۴۴) ترجمہ۔ وہ مومنوں پر بار بار رحم کرنے والا ہے۔