تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة الفاتحة وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمُ يَوْمَئِذٍ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ کے یہی معنے ہیں۔ کیونکہ ملائکہ ان ثَنِيَةٌ * فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَحْمِلُونَ صِفَانًا صفاتِ الہیہ کو اُٹھائے ہوئے ہیں جو عرش کی حقیقت سے فِيهَا حَقِيقَةٌ عَرْشِيَّةٌ وَالسِّرُّ فِي ذلِك أَن متعلق ہیں۔ اور اس میں بھید یہ ہے کہ عرش اس دنیا کی الْعَرْشَ لَيْسَ شَيْئًا مِنْ أَشْيَاءِ الدُّنْيَا بَلْ چیزوں میں سے نہیں بلکہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان هُوَ بَرْزَخٌ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَبْدَأَ برزخ اور رب العالمین، الرحمن الرحیم ، مالک یوم الدین کی قَدِيمُ لِلتَّجَلِّيَاتِ الرَّبَّانِيَّةِ وَ الرَّحْمَانِيَّةِ وَ صفات کی تجلیات کا ازلی منبع ہے۔ تا احسانات الہیہ کا اظہار الرَّحِيمِيَّةِ وَ الْمَالِكِيَّةِ لِإِظْهَارِ التَّفَضَّلَاتِ اور جزا سزا کی تکمیل ہو اور یہ عرش اللہ تعالیٰ کی صفات میں وَ تَكْمِيلِ الْجَزَاءِ وَالدِّينِ وَهُوَ دَاخِل في داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ازل سے صاحب عرش ہے اور صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى فَإِنَّهُ كَانَ ذَا الْعَرْشِ مِنْ اس کے ساتھ ازل میں کوئی اور چیز نہ تھی۔ پس ان باتوں پر قَدِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْءٍ فَكُنْ مِن غور و فکر کرنے والوں میں سے بنو۔ اور عرش کی حقیقت اور الْمُتَدَبِرِينَ وَحَقِيقَةُ الْعَرْشِ وَاسْتِوَاءِ اللہ تعالیٰ کا اس پر مستوی ہونا الہی اسرار میں سے ایک بہت اللهِ عَلَيْهِ سِرٌّ عَظِيمٌ مِنْ أَسْرَارِ اللهِ تعالی و بڑا سر ہے اور ایک بلیغ حکمت اور روحانی معنی پر مشتمل ہے حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ وَ مَعْنَى رُوحَانِي وَ سُمِيَ عَرْضًا اور اس کا نام عرش اس لئے رکھا گیا ہے تا اس جہان کے اہلِ لِتَفْهِيْمِ عُقُولِ هَذَا الْعَالَمِ وَ لِتَقْرِيبِ عقل کو اس کا مفہوم سمجھایا جائے اور اس بات کا سمجھنا ان کی الْأَمْرِ إِلَى اسْتِعْدَادَاتِهِمْ وَهُوَ وَاسِطَةٌ في استعدادوں کے قریب کر دیا جائے۔ اور وہ (عرش) الہی وُصُولِ الْفَيْضِ الْإِلهِي وَ التَّجَلِي الرَّحْمَانِي فيض اور اللہ تعالیٰ کی رحمانی تجلی کو ملائکہ تک پہنچانے میں مِنْ حَضْرَةِ الْحَقِّ إِلَى الْمَلَائِكَةِ وَ مِنَ واسطہ ہے۔ اور اسی طرح ملائکہ سے رسولوں تک پہنچانے کا الْمَلَائِكَةِ إِلَى الرُّسُلِ۔ ذریعہ ہے۔ وَلَا يَقْدَحُ فِي وَحْدَتِهِ تَعَالَى تَكْثُرُ خدا کی توحید پر یہ بات حرف نہیں لاتی کہ اس کے قَوَابِلِ الْفَيْضِ بَلِ التَّكَثُرُ هُهُنَا يُوجِبُ فیض کو قبول کرنے والے اور آگے پہنچانے والے وجود الْبَرَكَاتِ لِبَنِي آدَمَ وَيُعِينُهُمْ عَلَى الْقُوَّةِ بکثرت ہوں ۔ بلکہ اس مقام میں ( وسائط کی ) کثرت الرُّوْحَانِيَّةِ وَيَنْصُرُهُمْ فِي الْمُجَاهَدَاتِ وَ بنی آدم کے لئے برکات کا موجب ہے اور روحانی قوت الرِّيَاضَاتِ الْمُوْجِبَةِ لِظُهُورِ الْمُنَاسَبَاتِ کے حصول میں ان کو مدد دیتی ہے۔ اور انہیں ان مجاہدوں (الحاقة: ۱۸) ترجمہ۔ اور اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھا رہے ہوں گے۔