تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 150

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورة الفاتحة الْعَالَمَ كُلَّهُ يَشْهَدُ عَلَى وُجُودِ هَذِهِ وجود پر شہادت دے رہا ہے اور یہ چاروں صفات اس الصَّفَاتِ بِلِسَانِ الْحَالِ وَقَدْ تَجَلَّتْ هَذِهِ طور سے جلوہ افروز ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت ان میں الصَّفَاتُ بِنَحْوِ لَّا يَشُكُ فِيْهَا بَصِيرٌ إِلَّا شَک نہیں کر سکتا سوائے اس کے جواندھوں میں سے مَنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَمِينَ وَهُذِهِ الصَّفَاتُ ہو اور یہ صفات اس دنیا کے اختتام ۔ کے اختتام تک چار ( کی تعداد أَرْبَعُ إِلَى انْقِرَاضِ النَّشْأَةِ الدُّنْيَوِيَّةِ ثُمَّ میں ہی رہیں گی۔ پھر ان ہی میں سے چار اور صفات تَتَجَلَّى مِنْ تَحْتِهَا أَرْبَعُ أُخْرَى الَّتِي مِنْ جلوہ گر ہوں گی ۔ جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے جہان شَأْنِهَا أَنَّهَا لَا تَظْهَرُ إِلَّا فِي الْعَالَمِ الْآخِرِ میں ہی ظاہر ہوں گی اور ان کی پہلی جلوہ گاہ رب کریم کا وَأَوَّلُ مَطَالِعِهَا عَرْشُ الرَّبِ الْكَرِيمِ عرش ہوگا۔ جو کبھی غیر اللہ کے وجود سے آلودہ نہیں ہوا اور الَّذِي لَمْ يَتَدَنَّسُ بِوُجُودِ غَيْرِ اللهِ تَعَالیٰ وہ عرش پروردگار عالم کے انوار کا مظہر نام ہے۔ اور اس وَصَارَ مَظْهَرًا تَأَمَّا لِأَنْوَارِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کے پائے چار ہیں۔ ربوبیت ۔ رحمانیت ۔ رحیمیت اور وَقَوَائِبُه أَرْبَعُ رُبُوبِيَّةٌ وَرَحْمَانِيَّةٌ مالكيت يوم الدین ۔ اور ظلی طور پر ان چاروں صفات کا وَرَحِيمِيَّةٌ وَمَالِكِيَّةُ يَوْمِ الدِّينِ وَلَا مکمل طور پر جامع اللہ تعالیٰ کے عرش یا انسان کامل کے جَامِعَ لِهَذِهِ الْأَرْبَعِ عَلَى وَجْهِ الظَّلِيَّةِ إِلَّا دل کے سوا اور کوئی نہیں اور یہ ( چاروں ) صفات اللہ تعالیٰ عَرْشُ اللَّهِ تَعَالَى وَقَلْبُ الْإِنْسَانِ الْكَامِلِ کی باقی صفات کے لئے اصولی صفات ہیں ۔ اور وہ اس وَهُذِهِ الصَّفَاتُ أُمَّهَاتُ لِصِفَاتِ اللهِ كُلِّهَا عرش کے لئے بمنزلہ پایوں کے ہیں جس پر خدا تعالیٰ وَ وَقَعَتْ كَقَوَائِمِ الْعَرْشِ الَّذِي اسْتَوَى مستوى (جلوہ گر ) ہے اور خدا کے مستوی ہونے میں اللهُ عَلَيْهِ وَ فِي لَفْظِ الْاِسْتِوَاءِ إِشَارَةٌ إِلى ذات باری تعالیٰ کی صفات کے کامل انعکاس کی طرف هُذَا الْإِنْعِكَاسِ عَلَى الْوَجْهِ الْأَتَمِ اشارہ ہے جو بہترین خالق ہے۔ پھر عرش کا ہر پایہ ایک الْأَكْمَلِ مِنَ اللهِ الَّذِي هُوَ أَحْسَنُ فرشتہ تک پہنچتا ہے جسے وہ اُٹھائے ہوئے ہے اور اسی پا یہ الْخَالِقِينَ وَتَنْتَهِي كُلُّ قَائِمَةِ مِنَ الْعَرْشِ کے متعلق امر کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کی تجلیات کے إِلَى مَلَكٍ هُوَ حَامِلُهَا وَ مُدَبَّرُ أَمْرِهَا وَ مَوْرِدُ پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے اور ان تجلیات کو بحصہ رسدی تَجَلِّيَاءَهَا وَ قَاسِمُهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں پر تقسیم کرتا ہے۔ وَ الْأَرْضِينَ فَهُذَا مَعْنَى قَوْلِ اللهِ تَعَالى پس اللہ تعالیٰ کے قول وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ