تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 147

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة الفاتحة الْجَاهِلِينَ۔ وَمِنْ هُنَا نَجِدُ أَنَّ بِنَاءَ عَقِيدَةِ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کفارہ کے عقیدہ کی بنیاد خدا تعالیٰ الْكَفَّارَةِ عَلَى عَدْلِ اللهِ بِنَاء فَاسِدٌ عَلی کے عدل پر رکھنا بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ پس اس بارہ فَاسِدٍ فَتَدَبَّرُ فِيْهِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ لِكَسْرِ میں خوب غور کرو کیونکہ اگر تم مناظرین اسلام میں سے صَلِيبِ النَّصَارَى إِنْ كُنْتَ مِن ہو تو نصاری کی صلیب کو توڑنے کے لئے یہی چیز الْمُنَاظِرِينَ وَاسْمُ هَذِهِ الصَّفَةِ فِي كِتَابِ تمہارے لئے کافی ہے۔ خدا تعالیٰ کی کتاب میں اس اللهِ تَعَالَى رَحِيمِيَّةٌ كَمَا قَالَ اللهُ تعالى في صفت کا نام رحیمیت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید كِتَابِهِ الْعَزِيزِ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا " میں فرماتا ہے وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا اور پھر فرمایا وَقَالَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ، فَهَذَا وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِیم ۔ پس یہ فیضان صرف اس کے مستحق 66 66 الْفَيْضَانُ لَا يَتَوَجَّهُ إِلَّا إِلَى الْمُسْتَحِقِ وَلَا کی طرف ہی رُخ کرتا ہے اور صرف عمل کرنے والوں کا يَطْلُبُ إِلَّا عَامِلًا وَهُذَا هُوَ الْفَرْقُ بَيْنَ ہی متلاشی ہے ۔ رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے الرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ وَالْقُرْآنُ مَمْلُو مِن اور قرآن کریم اس فرق کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ تَطَائِرِه ولكن كَفَاكَ هَذَا الْقَدْرُ إِنْ كُنْتَ لیکن اس جگہ اتنا بیان ہی کافی ہے اگر تم عقلمندوں میں مِنَ الْعَاقِلِينَ۔ سے ہو۔ القِسْمُ الرَّابِعُ مِنَ الْفَيْضَانِ فَيُضَانَ فیضان کی چوتھی قسم وہ فیضان ہے جسے ہم فیضانِ تُسَمِّيهِ فَيُضَانًا أَخَصُّ وَ مَظْهَرا تَأَمَّا أخص يا مالكيت کے مظہر تام کے نام سے پکارتے لِلْمَالِكِيَّةِ وَهُوَ أَكْبَرُ الْفُيُوضِ وَأَعْلَاهَا وَ ہیں اور وہ فیوض میں سب سے بڑا ، سب سے اعلیٰ ،سب أَرْفَعُهَا وَأَتَمهَا وَأَكْبَلُهَا وَمُنْتَهَاهَا وَ ثَمَرَةُ سے بلند ، جامع ، سب سے زیادہ مکمل اور فیوض کا منتہی أَشْجَارِ الْعَالَمِينَ وَلَا يَظْهَرُ إِلَّا بَعْدَ هَدُم ہے۔ اور تمام جہانوں کے درختوں کا پھل بھی۔ اور اللہ عِمَارَاتِ هَذَا الْعَالَمِ الْحَقِيرِ الصَّغِيرِ وَ تعالیٰ کی طرف سے اس فیضان کا ظہور کامل اس حقیر اور دُرُوسِ أَهْلَالِهِ وَأَثَارِهِ وَشُحُوبِ سَحْنَتِهِ صغیر عالم کی عمارتوں کے مسمار ہونے ، اس کے کھنڈروں وَنُضُوبِ مَاءِ وَجْنَتِهِ وَأُفُولِ نَجْمه اور نشانات کے مٹ جانے ، اس کے رنگ وروپ کے كَالْمُغَرِبِينَ وَهُوَ عَالَمُ لَطِيفٌ دَقَّتْ متغیر ہو جانے اور اس کے رخساروں کی آب و تاب أَسْرَارُهُ وَكَثُرَتْ أَنْوَارُهُ يَخَارُ فِيهَا فَهُمُ زائل ہو جانے اور سب غروب ہونے والوں کی طرح ۲ ا۔ (الاحزاب: ۴۴) ترجمہ۔ اور وہ مومنوں پر بار بار رحم کرنے والا ہے ۔ (البقرۃ: ۲۱۹) ترجمہ۔ اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔