تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 146
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة الفاتحة بَلْ يَجْعَلُ يَدَاهُ مَغْلُولَةً وَ أَنْتَ تَرى أَنَّ ہے اور تم دیکھتے ہو کہ تمہارا مشاہدہ حقوق کے دعوی کو جھٹلاتا الْمُشَاهَدَةَ تُكَذِّبُهَا وَقَدْ خَلَقَ الله ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو مختلف درجوں میں مَخْلُوقَهُ عَلَى تَفَاوُتِ الْمَرَاتِبِ فَبَعْضُ پیدا کیا ہے۔ اس کی مخلوق میں سے کچھ تو گھوڑے اور مَخْلُوقِهِ أَفْرَاسُ وَحَمِيرٌ وَبَعْضُهُ جِمَال گدھے ہیں ۔ کچھ اونٹ اور اونٹنیاں ہیں۔ کچھ کتے اور وَنُوقُ وَكِلَابٌ وَ ذِيَابٌ وَ نُمُورٌ وَجَعَلَ بھیڑیئے ہیں اور چیتے ہیں۔ اس نے کچھ مخلوق کو تو کان اور لِبَعْضِ مَخْلُوقِهِ سَمْعًا وَبَصَرًا وَخَلَقَ آنکھیں دی ہیں۔ بعض کو بہرا پیدا کیا ہے اور بعض کو اندھا بَعْضَهُمْ مُمَّا وَجَعَلَ بَعْضَهُمْ عَمِينَ بنایا ہے پس کس جاندار کو یہ حق ہے کہ وہ کھڑا ہو اور اپنے فَلِأَيِّ حَيَوَانٍ حَقٌّ أَنْ يَقُومَ وَيُخَاصِمَ رَبَّهُ ربّ سے جھگڑا کرے کہ اُس نے اُسے اس طرح کیوں أَنَّهُ لِمَ خَلَقَهُ كَذَا وَلَمْ يَخْلُقُهُ كَذَا نَعَمْ پیدا کیا ؟ اور اُس طرح کیوں پیدا نہیں کیا ؟ ہاں اللہ تعالیٰ كَتَبَ اللهُ عَلَى نَفْسِهِ حَقَّ الْعِبَادِ بَعْدَ نے کتا بیں بھیجنے اور تبشیر و انذار مکمل کرنے کے بعد خود اپنے إِنْزَالِ الْكُتُبِ وَتَبْلِيغِ الْوَعْدِ وَالْوَعِيدِ او پر بندوں کا حق قرار دے لیا ہے۔ اور اس نے عمل کرنے وَبَشِّرَ بِجَزَاءِ الْعَامِلِينَ فَمَنْ تَبِعَ كِتَابَهُ والوں کو مناسب جزا کی بشارت دی ہے۔ پس جو شخص اس وَنَبِيَّةَ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ کی کتاب اور اس کے نبی کی پیروی کرے اور اپنے آپ کو الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى وَمَنْ عَطَى رَبَّہ گری ہوئی خواہشات سے روکے رکھے تو یقیناً جنّت ہی اس وَأَحْكَامَهُ وَأَبِي فَسَيَكُونُ مِنَ کا ٹھکانہ ہے لیکن جو شخص اپنے رب اور اس کے احکام کی الْمُعَذِّبِينَ فَلَمَّا كَانَ مِلَاكَ الْأَمْرِ نافرمانی اور انکار کرے تو اس کو ضرور سزا ملے گی۔ پس جبکہ الْوَعْدُ وَالْوَعِيدُ لَا الْعَدْلُ الْعَتِيدُ الَّذِي وعده وعید پر ہی جزا کا مدار ہے نہ کہ کسی حقیقی عدل پر جو كَانَ وَاجِبًا عَلَى اللهِ الْوَحِيدِ الهَدَمَ مِنْ خدائے وحید پر لازم قرار دیا جائے تو اس اصول سے هذَا الْأُصُولِ الْمُنِيفُ الْمُمَرَّدُ الَّذِي عیسائیوں کے اوہام سے تعمیر کردہ بلند و طویل عمارت دھڑام بَنَاهُ النَّصَارَى مِنْ أَوْهَا مِهِمْ ۔ سے گر جاتی ہے۔ فَثَبُتَ أَنَّ إِيجَابَ الْعَدْلِ الْحَقِيقِي پس ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر عدل حقیقی عَلَى اللهِ تَعَالَى خَيَالُ فَاسِدٌ وَمَتَاعُ واجب ٹھہرانا ایک فاسد خیال اور کھوٹی جنس ہے۔ جسے كَاسِدٌ لَّا يَقْبَلُهُ إِلَّا مَنْ كَانَ مِن جاہلوں کے سوا اور کوئی قبول نہیں کر سکتا۔ اس ( بحث ) سے