تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 139

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة الفاتحة طَبْعًا فَلَيْسَ هَذَا التَّقْدِيمُ مَحْدُودًا في یہ ترتیب محض کلام کو سجانے اور سلاست وروانی کے پیش تَوْشِيَةِ الْكَلَامِ وَتَحْصُورًا فِي رِعَايَةِ الصَّفَاءِ نظر ہی نہیں بلکہ اس میں تو حکیمانہ بلاغت سے نظام التَّامِ بَلْ هِيَ بَلَاغَةٌ حِكْمِيَّةُ لإِرَاثَةِ کائنات کو دکھانا مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقوال اس النِّظَامِ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ تَعَالَى جَعَلَ أَقْوَالہ کے ان افعال کے دکھانے کے لئے آئینہ ہیں جو اس کی مِرَا ةً لِرُؤْيَةِ أَفْعَالِهِ الْمَوْجُودَةِ فِي طَبَقَاتِ مخلوق کے مختلف طبقات میں ( بلحاظ ترتیب ) موجود ہیں تا الْأَنَامِ لِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُ الْعَارِفِينَ اس سے عارفوں کے دل تسلی پائیں۔ وَالْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ الصَّفَاتِ ان صفات فیضانیہ کی دوسری قسم وہ صفت ہے جس کا الْفَيْضَانِيَّةِ صِفَةٌ يُسَمِّيهَا رَبُّنَا الرَّحمن نام ہمارا پروردگار ” الرحمان رکھتا ہے۔ پس ضروری وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ نُسَمِّيَ فَيُضَانَهُ فَيُضَانًا عَامًا ہے کہ ہم بھی اس فیضان کو فیضان عام اور رحمانیت کے وَ رَحْمَانِيَّةً وَلَهُ مَرْتَبَةٌ بَعْدَ مَرْتَبَةِ الْفَيْضَانِ نام سے پکاریں ۔ اس کا مرتبہ فیضان اعم ( ربوبیت ) الْأَعَةِ وَهُوَ أَخَصُّ مِنَ الْفَيْضَانِ الْأَوَّلِ وَ کے بعد ہے اور اس فیضان کا دائرہ عمل اُس پہلے فیضان لَا يَنْتَفِعُ مِنْهُ إِلَّا ذَوُو الرُّوْحِ مِنْ أَشْيَاءِ سے اخص ہے اور اس سے آسمان اور زمینوں ور زمینوں کی صرف السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ وَإِنَّ اللهَ فِي وَقْتِ هَذَا جاندار اشیاء ہی نفع حاصل کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے الْفَيْضِ لَا يَنْظُرُ الْاِسْتِحْقَاقَ وَالْعَمَلَ اس فیض کے وقت کسی خاص حق عمل یا شکر کو نہیں دیکھتا وَالشُّكُرَ بَلْ يُنَزِّلُهُ فَضْلاً مِنْهُ عَلَى كُلِّ ذِى بلکہ وہ محض اپنے فضل سے ہر ذی روح پر اس فیضان کو رُوحِ إِنْسَانًا كَانَ أَوْ حَيَوَانًا فَجُنُونًا كَانَ أَوْ جاری رکھتا ہے چاہے وہ انسان ہو یا حیوان ۔ دیوانہ ہو یا عَاقِلاً مُؤْمِنًا كَانَ أَوْ كَافِرًا وَيُنَجِي كُلَّ رُوح عاقل ، مؤمن ہو یا کافر، اور ہر روح کو ہلاکت سے بچاتا مِنْ هَلَكَةٍ دَانَتْ مِنْهَا بَعْدَ مَا كَادَتْ تَهْوى ہے جو اس کے قریب پہنچ چکی ہو اور وہ ( روح ) اس میں فِيهَا وَيُعْطِي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقًا يَنْفَعُهُ لِأَنَّ اللهَ کرنے ہی لگی ہو اور ہر شے کو ایسی شکل وصورت عطا کرتا جَوَادٌ بِالذَّاتِ وَلَيْسَ بِضَنِيْنِ فَكُلُّ مَا ہے جو اس کے لئے مفید ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بالذات سخی تَرى فِي السَّمَاءِ مِنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ہے اور ہر گز بخیل نہیں اور جو کچھ تمہیں آسمان میں نظر آتا وَالنُّجُومِ وَ الْمَطَرِ وَالْهَوَاءِ وَمَا تَرَى فِي ہے مثلاً سورج، چاند، ستارے، بارش اور ہوا اور جو کچھ الْأَرْضِ مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْأَشْجَارِ وَالْأَثْمَارِ وَ زمین میں نظر آرہا ہے مثلاً نہریں ، درخت اور پھل،