تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة الفاتحة حَجَرًا وَلَا سَمَاءً وَلَا أَرْضًا بَلْ نَزَلَ مَاءُ | کسی زمین کو ۔ بلکہ اس کی رحمت کا پانی ہر چیز پر نازل ہوا عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَأَحْيَاهُ وَ أَحَاطَ بِالْكَاثِنَاتِ اور اسے زندگی عطا کی۔ اس فیضان نے تمام کائنات کی كُلِّهَا ظَوَاهِرِهَا وَ بَوَاطِنِهَا فَكُلُّ شَيْءٍ آشکارہ اور پوشیدہ اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ پس ہر چیز صَنِيعَةٌ مِّنَ اللهِ الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ اُسی اللہ کی صنعت ہے۔ جس نے ہر چیز کو (اس کی خَلْقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينِ ضرورت کے مطابق ) بناوٹ دی ۔ اور انسان کی پیدائش وَاسْمُ ذَلِكَ الْفَيْضِ رُبُوبِيَّةٌ وَبِهِ يَبْذُرُ الله کا آغاز گیلی مٹی سے کیا۔ اس فیضان کا نام ربوبیت ہے تَعَالَى بَذْرَ السَّعَادَةِ فِي كُلِّ سَعِيدٍ وَعَلَيْهِ اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہر سعید انسان میں سعادت کی يَتَوَقَّفُ اسْتِعْمَارِ الْخَيْرَاتِ وَبُرُوزُ مَادَّةِ تخم ریزی کرتا ہے۔ نیکیوں کے ثمرات ، نیک بختی کا مادہ، السَّعَادَاتِ وَأَثَارُ الْوَرْعِ وَالْحَزَامَةِ وَ پارسائی اور حزم و تقوی کے آثار اور ہر وہ خوبی جو صاحب التَّقَاةِ وَكُلُّ مَا يُوجَدُ فِي الرَّشِيدِينَ رشد لوگوں میں پائی جاتی ہے اسی فیض ربوبیت پر موقوف وَكُلُّ شَقِي وَسَعِيدٍ وَطَيِّبِ وَخَبِيْثٍ ہے۔ اور ہر بدبخت، نیک بخت، پاک نا پاک اپنا حصہ يَأْخُذُ حَقَّهُ كَمَا شَاءَ رَبُّهُ فِي الْمَرْتَبَةِ پاتا ہے۔ جس طرح اس کے رب نے اپنے مرتبہ ربوبیت الرُّبُوْبِيَّةِ فَهُذَا الْفَيْضُ يَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ میں اس کے لئے چاہا۔ پس یہ فیضان جسے چاہے انسان بنا إِنْسَانًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ حِمَارًا وَيَجْعَلُ ما دیتا ہے۔ جسے چاہے گدھا بنادیتا ہے۔ جس چیز کو چاہے پیتل يَشَاءُ نُحَاسًا وَ يَجْعَلُ مَا يَشَاءُ ذَهَبًا وَمَا بنا دیتا ہے اور جسے چاہے سونا بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے كَانَ اللهُ مِنَ الْمَسْؤُولِينَ وَاعْلَمْ أَنَّ هَذَا سامنے جوابدہ نہیں۔ اور یہ بھی واضح ہو کہ یہ فیضان لگا تار الْفَيْضَ جَارٍ عَلَى الْإِتِّصَالِ بِوَجْهِ پورے کمال کے ساتھ جاری ہے اور اگر ایک لحظہ کے لئے الْكَمَالِ وَلَوْ فُرِضَ انْقِطَاعُهُ طُرْفَةَ عَيْنٍ بھی اس کا انقطاع فرض کر لیا جائے تو زمین و آسمان اور لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَا ان کی موجودات تباہ و برباد ہو جائیں۔ لیکن یہ فیضان ہر فِيهِنَّ وَلَكِنْ أَحَاطَ صَحِيحًا وَ مَرِيضًا تندرست اور مریض، بلندی اور پستی ، درخت اور پتھر اور وَيَفَاعًا وَحَضِيْضًا وَشَجَرًا وَ حَجَرًا وَ كُلَّ مَا جو کچھ دونوں جہانوں میں ہے سب پر محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ فِي الْعَالَمِينَ وَ قَدَّمَ اللهُ هَذَا الْفَيْضَ فِي نے اپنی کتاب میں اس فیض کو سب سے پہلے اس لئے كِتَابِهِ وَضْعًا لِتَقَلُّمِهِ فِي عَالَم أَسْبَابِه بیان فرمایا کہ عالم اسباب میں وہ طبعاً تقدم رکھتا ہے۔ پس