تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 331

کے ساتھ ناروا سلوک <mark>کر</mark> کے انہیں دکھ پہنچائو <mark>گے</mark> یا ناواجب پیار <mark>کر</mark> کے انہیں خراب <mark>کر</mark>و <mark>گے</mark> تو دونوں صورتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے تم جواب دہ ہو <mark>گے</mark>۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ایسا حکم دے دیتا جس کے نتیجہ میں تمہیں تکلیف ہوتی یعنی وہ کہہ دیتا کہ <mark>یتامیٰ</mark> کا مال بھی الگ رکھو اور ان کا خرچ بھی برداشت <mark>کر</mark>و۔لیکن <mark>اس</mark> نے رحم سے کام لیا اور تمہاری سہولت کو <mark>اس</mark> نے مدنظر رکھا <mark>اس</mark> سہولت کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہیے کہ تم <mark>یتامیٰ</mark> کی تربیت کا خیال نہ رکھویا ان کے اموال کو غصب <mark>کر</mark>نے کی کوشش <mark>کر</mark>و۔اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔<mark>اس</mark> میں عزیز اور حکیم کی صفات کا ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark> کے پھر دو امور کی <mark>طرف</mark> توجہ دلائی ایک <mark>طرف</mark> تو <mark>اس</mark> امر کی <mark>طرف</mark> کہ یتیم میں طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حقوق دوسروں سے لے سکے۔<mark>اس</mark> کے متعلق <mark>فرمایا</mark> کہ اگر وہ عَزِیْز نہیں تو خدا تعالیٰ تو عزیز اور غالب ہے جس طرح تم یتیم پر غالب ہو تمہارے اوپر بھی کوئی غالب ہستی ہے۔اگر تم <mark>اس</mark> کے حقوق کو تلف <mark>کر</mark>و <mark>گے</mark> یا ناجائز سختی اوردبائو سے کام لو <mark>گے</mark> یا <mark>اس</mark> کا مال کھائو <mark>گے</mark> تو خدا تعالیٰ تمہیں پکڑے گا پھر <mark>فرمایا</mark> تھا کہ یتیم سے نرمی <mark>کر</mark>و اور <mark>اس</mark> کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔<mark>اس</mark> کے متعلق <mark>فرمایا</mark> کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے تمہیں بھی حکمت سے کام لینا چاہیے اور جس بات میں فائدہ ہو وہی اختیار <mark>کر</mark>نی چاہیے۔ترتیب وربط اوپر کی آیات کے ساتھ ان آیات کا ربط یہ ہے کہ جنگ کے احکام کے سلسلہ میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ <mark>اس</mark> کے نتیجہ میں بہت لوگ شہید ہو جائیں <mark>گے</mark> اور ان کے بچے یتیم رہ جائیں <mark>گے</mark> ایسی صورت میں ان سے کیا سلوک کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے زیر تفسیر آیات میں <mark>اس</mark> سوال کا جواب دے دیا اور <mark>اس</mark> طرح تمام مضمون ایک لڑی میں پرو دیا۔درحقیقت قرآنی مضامین کی ترتیب عام کتب کی ترتیب کے مطابق نہیں بلکہ طبعی ترتیب ہے وہ اپنے مضامین میں جو ترتیب رکھتا ہے وہ <mark>اس</mark> ترتیب سے علیٰحدہ ہے جو انسان اپنی کتابوں میں رکھتے ہیں۔قرآن <mark>کر</mark>یم <mark>اس</mark> چیز کو جو سب سے پہلے بیان ہونی ضروری ہو بیان <mark>کر</mark>تا ہے اور پھر <mark>اس</mark> کے متعلق انسانی قلب میں پیدا ہونےوالے تمام وساوس اور شبہات کا ازالہ <mark>کر</mark>تا ہے۔مثلاً جنگ ہے <mark>اس</mark> کے متعلق جو سوال پیدا ہوں<mark>گے</mark> ان کو بیان <mark>کر</mark>ےگا پھر ان سے جو سوال پیدا ہوگا <mark>اس</mark> کا ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>ے گا اور <mark>اس</mark> میں جن امور کی <mark>طرف</mark> انسانی ذہن منتقل ہو گا وہ بیان <mark>کر</mark>تا چلا جائے گا اور چونکہ ایسے سوالات طبعی ہوتے ہیں <mark>اس</mark> لئے ان کے جوابات کا قلوب پر خاص اثر پڑتا ہے <mark>اس</mark>ی طبعی ترتیب سے <mark>اس</mark> جگہ بھی کام لیا گیا ہے۔چنانچہ جنگ کا ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>تے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کا ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark> دیا جو جنگ سے براہ ر<mark>اس</mark>ت تعلق رکھنے والی چیزیں تھیں اور جب جُوئے سے اخراجات جنگ پورے