تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 330
حالت ہے کہ اگر کوئی شخص مرنے لگتا ہے تو <mark><mark>اس</mark></mark>ے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں سب سے بڑا ف<mark>کر</mark> <mark>او</mark>ر اضطراب یہی ہوتا ہے کہ میرے بعد میرے بیوی بچوں کا کیا بنے گا۔کون ان کی <mark>پرورش</mark> <mark><mark>کر</mark>ے</mark> گا۔کون ان کی نگہداشت <mark><mark>کر</mark>ے</mark>گا کون ان کی طر ف محبت <mark>او</mark>ر پیا ر کی نگاہ سے دیکھے گا؟؟ <mark>او</mark>ر جب وہ شخص مر جاتا ہے <mark>او</mark>ر <mark><mark>اس</mark></mark> کے بچوں کی <mark>پرورش</mark> کا سوال <mark>سامنے</mark> آتا ہے تو ایک شخص کہتا ہے میرا دل تو چاہتا ہے کہ <mark>بچہ</mark> لے لوں مگر کیا <mark><mark><mark>کر</mark>و</mark>ں</mark> مجھ پر بوجھ بڑا ہے۔<mark>دوسراکہتا</mark> ہے منشاء تو میرا بھی یہی تھا مگر مشکلات بہت ہیں۔تیسرا کہتا ہے میں بھی یہ ثواب حاصل <mark>کر</mark>نا چاہتا تھا مگر بہت مجبوری ہے۔<mark><mark>اس</mark></mark> طرح ایک ایک <mark>کر</mark> کے ہر شخص <mark><mark>اس</mark></mark> بوجھ سے بھاگنے کی کوشش <mark>کر</mark>تا ہے لیکن صحابہؓ میں یہ بات نہیں تھی وہ بھاگتے نہیں تھے بلکہ خوشی سے <mark><mark>اس</mark></mark> ثواب کو حاصل <mark>کر</mark>نے کی کوشش <mark>کر</mark>تے تھے۔جب کسی قوم میں یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ وہ یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری <mark>کر</mark>نے لگ جائے ان کا احترام افراد قوم کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔ان کی <mark>پرورش</mark> میں انہیں سکون <mark>او</mark>ر راحت حاصل ہو <mark>او</mark>ر وہ یتیموں کو ایسا ہی سمجھیں جیسے ان کے اپنے بچے ہیں تو<mark><mark>اس</mark></mark> وقت ایمان کے بغیر بھی وہ قوم بہادر بن جاتی ہے <mark>او</mark>ر جب <mark><mark>اس</mark></mark> کے ساتھ کسی کو حیات بعد الموت پر ایمان بھی ہو <mark>او</mark>ر زندہ خدا پر توکل ہو تو پھر تو یہ دو چیزیں مل <mark>کر</mark> <mark><mark>اس</mark></mark> کے دل کو ایسا مضبوط بنا دیتی ہیں کہ موت کا ڈر <mark><mark>اس</mark></mark> کے قریب بھی نہیں آتا۔یوروپین قوموں میں اگر ہمیں دلیری نظر آتی ہے تو <mark><mark>اس</mark></mark> کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے اندر یہ احس<mark><mark>اس</mark></mark> پایا جاتا ہے کہ اگرہم مر گئے تو ہماری قوم یتامیٰ و بیوگان کی خبر گیری <mark><mark>کر</mark>ے</mark>گی۔یہی وجہ ہے کہ مرنے والا موت کی ذرا بھی پروا ہ نہیں <mark>کر</mark>تا وہ جاتا ہے <mark>او</mark>ر اپنی جان کو قربان <mark>کر</mark> دیتا ہے۔ایمان <mark>او</mark>ر چیز ہے وہ زیادہ تر انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں <mark>اللہ</mark> تعالیٰ کے نبی پر تازہ بتازہ ایمان لانا نصیب ہو مگر قومی کیریکٹر کی <mark><mark>اس</mark></mark> ر نگ میں مضبوطی ایمان کے بغیر بھی افرادِ قوم کو بہادر <mark>او</mark>ر نڈر بنا دیا <mark>کر</mark>تی ہے۔وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ۔<mark>فرمایا</mark> اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو یعنی کھانے پینے تجارت <mark>او</mark>ر دوسرے کام کاج میں ان کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔تم ایسا <mark>کر</mark> سکتے ہو۔مگر بھائی کہہ <mark>کر</mark> ذمہ داریاں بھی بتا دیں کہ ان کے ساتھ وہ <mark>معاملہ</mark> ہونا چاہیے جو ایک بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ <mark>کر</mark>تا ہے۔بڑا بھائی <mark>جس</mark> کے <mark>سپر</mark>د چھوٹے بھائیوں کی نگرانی ہوتی ہے وہ <mark><mark>اس</mark></mark>ی طرح <mark>کر</mark>تا ہے کہ ان کے مال کی حفاظت <mark>کر</mark>تا ہے۔انہیں کھلاتا پلاتا ہے <mark>او</mark>ر بڑے ہونے پر ان کا مال ان کو دے دیتا ہے <mark><mark>اس</mark></mark>ی طرح یتامیٰ کو بھائی کہہ <mark>کر</mark> توجہ دلائی کہ چھوٹے بھائیوں سے لینے کی امید نہ رکھو بلکہ انہیں اپنے پ<mark><mark>اس</mark></mark> سے بھی کچھ دینا چاہیے۔<mark>او</mark>ر ان کے ساتھ وہی <mark>معاملہ</mark> ہونا چاہیے جو بھائیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَمِنَ الْمُصْلِحِ میں <mark><mark>اس</mark></mark> طرف اشارہ <mark>فرمایا</mark> کہ اگر تم مصلح بن <mark>کر</mark> فساد کی بنیاد ڈالو گے <mark>او</mark>ر یتامیٰ