تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 551
معماروں نے رد کیا ہوا ہو گا۔وہ زبردست بادشاہوں کو کچل ڈالے گا۔وہ ان گھڑ پتھر ہو گا اور کسی انسان کے ہاتھ نے <mark>اس</mark>ے نہ گھڑا ہو گا۔قرآن مجید اور آنحضرتؐ کا حضرت مسیح ؑ کے کلام کی تصدیق کرنا حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی <mark>اس</mark> پیشگوئی کا ذکر کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں۔’’ایک اور تمثیل سنو۔ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا اور <mark>اس</mark> کی چاروں طرف روندھا اور <mark>اس</mark> کے بیچ میں کھود کے کو لہوگاڑا اور برج بنایا اور باغبانوں کو سونپ کے آپ پردیس گیا اور جب میوہ کا موسم قریب آیا <mark>اس</mark> نے اپنے نوکروں کو باغبانوں پ<mark>اس</mark> بھیجا کہ <mark>اس</mark> کا پھل لاویں پر ان باغبانوںنے <mark>اس</mark> کے نوکروں کو پکڑ کے ایک کوپیٹا اور ایک کو مار ڈالا اور ایک کو پتھرائو کیا۔پھر <mark>اس</mark> نے اور نوکروں کو جو پہلوں سے بڑھ کے تھے بھیجا انہوں نے ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا آخر <mark>اس</mark> نے اپنے بیٹے کو ان کے پ<mark>اس</mark> یہ کہہ کر بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دبیں گے لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا آپس میں کہنے لگے وارث یہی ہے آئو <mark>اس</mark>ے مار ڈالیں کہ <mark>اس</mark> کی میراث ہماری ہو جائے اور <mark>اس</mark>ے پکڑ کے اور انگورستان کے باہر لے جا کر قتل کیا جب انگورستان کا مالک آوے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا وے <mark>اس</mark>ے بولے ان بدوں کو بری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جو <mark>اس</mark>ے موسم پر میوہ پہنچاویں یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب <mark>اس</mark> لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو <mark>اس</mark> کے میوہ لا وے دی جائے گی‘‘۔(متی باب ۲۱ <mark>آیت</mark> ۳۳ تا ۴۳)۔<mark>اس</mark> حوالہ میں حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک تمثیل دی ہے اور بتایا ہے کہ بنی <mark>اس</mark>رائیل نے بہت سے نبیوں کا انکار کیا آخر خدا تعالیٰ نے ایک ایسے نبی کو بھیجا جو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا یعنی خود مسیح علیہ السلام لیکن بنی <mark>اس</mark>رائیل اُن کا بھی انکار کریں گے اور انہیں قتل کریں گے یعنی قتل کرنے کی کوشش کریںگے(جیسا کہ دوسرے حوالوں سے جو اپنے وقت پر بیان ہوں گے ثابت ہے) <mark>اس</mark> پر ایک ایسا نبی آئے گا جو خدا تعالیٰ کا ظہور کہلائے گا اور وہ کونے کا پتھر ہو گا <mark>اس</mark> کی آمد پر بنی <mark>اس</mark>رائیل کو <mark>مکمل</mark> سزا دی جائے گی اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت ایک <mark>ایسی</mark> قوم کے سپرد کی جائے گی جو خدا تعالیٰ کو وقت پر میوہ پہنچائیں گے یعنی خدا تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح بجا لائیں گے وہ پتھر <mark>اس</mark> شان کا ہو گا جس پر وہ گرے گا <mark>اس</mark>ے پیس ڈالے گا اور جو <mark>اس</mark> پر گرے گا وہ بھی چُور چُور ہو گا۔آنحضرتؐ کا اپنے آپ کو کونے کا پتھر کہنا یہ پیشگوئیاں جن کے بیان کرنے میں چار نبیوں نے حصہ لیا