تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 550
اور <mark>اس</mark> کے پائوں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے اور تو <mark>اس</mark>ے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر بغیر <mark>اس</mark> کے کہ کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے نکلا جو <mark>اس</mark> شکل کے پائوں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا۔تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کے مانند ہوئے اور ہوَا انہیں اُڑا لے گئی یہاں تک کہ ان کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے <mark>اس</mark> مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا۔وہ خواب یہ ہے۔اور <mark>اس</mark> کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں۔تُو اے بادشاہ !بادشاہوں کا بادشاہ ہے <mark>اس</mark> لئے کہ آسمان کے خدا نے تجھے ایک بادشاہت اور توانائی اور قوت اور شوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں <mark>اس</mark> نے میدان کے چوپائے اور ہوا کے پرندے تیرے قابو میں کر دیئے اور تجھے ان سبھوں کا حاکم کیا۔توُ ہی وہ سونے کا سر ہے اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہو گی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور <mark>اس</mark> کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہو گی اور جس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے۔ہاں! لوہے کی طرح سے جو سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے <mark>اس</mark>ی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تو نے دیکھا کہ <mark>اس</mark> کے پائوں اور انگلیاں کچھ تو کمہار کی ماٹی کی۔اور کچھ لوہے کی تھیں سو <mark>اس</mark> سلطنت میں تفرقہ ہو گا۔مگر جیسا کہ تو نے دیکھا کہ <mark>اس</mark> میں لوہا گلاوے سے ملا ہوا تھا۔سو لوہے کی توانائی <mark>اس</mark> میں ہو گی اور جیسا کہ پائوں کی انگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ ماٹی کی تھیں۔سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہو گی اور جیسا تو نے دیکھا کہ لوہا گلاوے سے ملا ہوا ہے وے اپنے آپ کو انسان کی نسل سے ملاویںگے لیکن جیسا لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا تیساوے باہم میل نہ کھاویںگے اور ان بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو وے گی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضے میں نہ پڑے گی۔ان سب مملکتو ںکو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی جیسا کہ تو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر <mark>اس</mark> کے کہ کوئی ہاتھ سے <mark>اس</mark> کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سےآپ نکلا اور <mark>اس</mark> نے لوہے اور تانبے اور مٹی او رچاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور <mark>اس</mark> کی تعبیر یقینی۔‘‘ (دانیال باب ۲ آیت ۳۱ تا ۴۵) ان تین انبیاء کی بتائی ہوئی خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک روحانی بادشاہ کا ظہور ہونے والا تھا جس نے کونے کے پتھر کی حیثیت پانی تھی یعنی وہ روحانی سلسلہ کا آخری وجود ہونے والا تھا۔وہ پتھر بڑا قیمتی ہو گا مضبوط ہونےوالا۔جو <mark>اس</mark> پر ایمان لائیںگے صاحب وقار ہوں گے اور جلد باز نہ ہوں گے۔وہ پتھر ایسا ہو گا جسے