تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 375

اس نے <mark>ان</mark> احکام کو چھوڑ دیا اور <mark>ان</mark> کے تسلیم کرنے سے <mark>ان</mark>کار کر دیا۔جن کو عقل لینے کا فتویٰ دیتی تھی۔اور جن کو تسلیم کرنے کا فطرت تقاضا کرتی تھی۔(مفردات) پس فَاسِقٌ کے معنی ہوئے (۱) نافرم<mark>ان</mark> (۲) خدا تعالیٰ کے حکم کو ترک اور ردّ کرنے والا (۳) حق کو قبول کر کے پھر اُسے ترک کر دینے والا۔تفسیر۔اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا کے معنے اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا کے یہ معنی نہیں کہ کوئی مثال بی<mark>ان</mark> کرے بلکہ یہ معنے ہیں کہ کوئی بات بی<mark>ان</mark> کرے۔مَثَلٌ کے معنے حقیقت بی<mark>ان</mark> وغیرہ کے ہوتے ہیں قرآن کریم میں آتا ہے وَ سَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ (ابراہیم :۴۶) یعنی تم <mark>ان</mark> لوگوں کے گھرو ںمیں رہتے ہو جنہوں نے اپنی ج<mark>ان</mark>وں پر ظلم کیا اور تم کو معلوم ہو چکا ہے کہ ہم نے <mark>ان</mark> سے کیا معاملہ کیا اور ہم <mark>ان</mark> کے احوال تم سے بی<mark>ان</mark> کر چکے ہیں۔آیت زیر تفسیر میں بھی ضرب المثل کا کوئی موقع نہیں اور معنے صاف ہیں کہ ضرب مثل سے مراد صرف حال یا کیفیت یا حقیقت بی<mark>ان</mark> کرنے کے ہیں۔فرماتا ہے ہم اس بات سے نہیں رکتے کہ ہم کوئی بات بی<mark>ان</mark> کریں خواہ وہ مچھر کے برابر ہو یعنی بہت چھوٹی ہو یا مچھر سے بھی چھوٹی ہو اس جگہ فَمَا فَوْ قَھَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور فَوقکے عام معنے اُوپر کے ہوتے ہیں مگر عربی میں فَوقکا لفظ نسبتی طور پر استعمال ہوتا ہے۔بڑی کے لئے بھی فَوقکالفظ استعمال کر دیتے ہیں اور چھوٹی کے لئے بھی۔اور اس موقع پر اس کے معنے پہلی بی<mark>ان</mark> کردہ حقیقت میں زیادتی پر دلالت کرنے کے ہوتے ہیں اگر کسی کی شرافت کا ذکر ہو اور کوئی کہے ھُوَ فَوْقَہٗ تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کی شرافت اس سے بھی زیادہ ہے جو تم بی<mark>ان</mark> کرتے ہو۔اور اگر دنائت کا ذکر ہو اور کوئی ھُوَ فَوْقَہٗ کہے تو اس کے معنے ہوں گے اس کی کمینگی اس سے بھی زیادہ ہے جو تم بتاتے ہو۔یہاں چونکہ چھوٹی چیز کی مثال دی گئی ہے پس فَمَا فَوْقَہَا کے معنی ہیں کہ مچھر سے بھی چھوٹی بات بی<mark>ان</mark> کرنے سے اللہ نہیں رکتا۔اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةًمیں نحوی لحاظ سے بَعُوْضَة کا مقام اس آیت میں ما نکرہ پر دلالت کرنے کے لئے آیا ہے اور مَثَـلًا مَّا کے معنی ہیں کوئی بات۔اور آیت کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کوئی بات بی<mark>ان</mark> کرنے سے نہیں رُکتا۔رہا یہ کہ بَعُوْضَۃً کا مقام ترکیب کیا ہے؟ سو اس بارہ میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے <mark>بعض</mark> <mark>کہتے</mark> ہیں کہ اس پر نصب اس لئے آئی ہے کہ یہ مَا کی صفت ہے جو بدل ہے مَثَـلًا کا جو آگے مفعول ہے یَضْرِبُ کا۔<mark>بعض</mark> نے کہا ہے کہ یہ مَثَلًا کا عطف بی<mark>ان</mark> ہے۔<mark>بعض</mark> <mark>کہتے</mark> ہیں کہ یہ بدل ہے مَثَـلًا کا۔<mark>بعض</mark> <mark>کہتے</mark> ہیں کہ یہ