تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 374
ہدایت انسانی کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔(کلّیات ابی البقاء و المفردات للامام راغب) <mark>اس</mark> آیت میں یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًاکے معنے یَحْکُمُ اللّٰہُ بِالضَّلَالِ عَلَیْہِمْ کے کئے گئے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ <mark>اس</mark> کے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے یا یہ کہ <mark>اس</mark> کے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کو گمراہ قرار دیتا ہے۔یَھْدِیْ۔یَھْدِیْ ھَدٰی سے مضارع ہے اور ھُدًی کے لئے دیکھوحَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت ۶ و سورۃ البقرۃ آیت۳۔اَلْفَ<mark>اس</mark>ِقِیْنَ۔اَلْفَ<mark>اس</mark>ِقِیْنَ فَسَقَ سے <mark>اس</mark>م فاعل فَ<mark>اس</mark>ِقٌ آتا ہے اور فَ<mark>اس</mark>ِقُوْنَ۔فَ<mark>اس</mark>ِقِیْنَ۔فَسَقَۃٌ۔فُسَّاقٌ فَ<mark>اس</mark>ِقٌکی جمع ہیں۔فَسَقَ کے معنے ہیں (۱) تَرَکَ اَمْرَ اللّٰہِ اللہ کے حکم کو ردّ کر دیا۔(۲) عَصٰی وَجَارَ عَنْ قَصْدِالسَّبِیْلِ نافرمانی کی اور سیدھے ر<mark>اس</mark>تہ سے ہٹ گیا۔چنانچہ کہتے ہیں فَسَقَتِ الرِّکَابُ عَنْ قَصْدِ السَّبِیْلِ کہ قافلہ چلتے چلتے ٹھیک ر<mark>اس</mark>تہ سے اِدھر اُدھر ہو گیا۔(۳) خَرَجَ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقِّ حق کے ر<mark>اس</mark>تہ سے نکل گیا۔وَقِیْلَ فَـجَرَ اور بعض لغت کے ائمہ نے <mark>اس</mark> کے <mark>معنی</mark> بدکار ہو گیا کے کئے ہیں۔نیز کہتے ہیں۔فَسَقَتِ الرُّطَبَۃُ عَنْ قَشْرِھَا اَیْ خَرَجَتْ۔کہ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔اور جب فَسَقَ فُـلَانٌ مَالَـہٗ کہیں تو معنے یہ ہوں گے کہ اَھْلَکَہٗ وَاَنْفَقَہٗ <mark>اس</mark> نے مال کو ضائع کر دیا۔اور خرچ کر دیا۔(اقرب) لسان میں ہے اَلْفُسُوْقُ۔اَلْخُرُوْجُ عَنِ الدِّیْنِ۔یعنی فسوق <mark>دین</mark> سے خروج کرنے کا نام ہے اور اَلْفِسْقُ کے <mark>معنی</mark> ہیں۔اَلْعِصْیَانُ وَالتَّرْکُ لِاَ مْرِ اللّٰہِ وَالْخُرُوْجُ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقِّ یعنی نافرمانی اور خدا تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے اور سچے ر<mark>اس</mark>تے سے خروج کا نام فسق ہے اَلْمَیْلُ اِلَی الْمَعْصِیَۃِ گناہ کی طرف میلان کو بھی فسق کہتے ہیں نیز لکھا ہے وَتُسمَّی الْفَأْرَۃُ فُوَیْسَقَۃً لِخُرُوْجِہَا عَلَی النَّ<mark>اس</mark>ِ وَ اِفْسَادِ ھَا یعنی چوہے کو فُوَیْسَقَہ <mark>اس</mark> لئے کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو دُکھ دیتا ہے اور کام خراب کرتا ہے۔(لسان) امام راغب ف<mark>اس</mark>ق کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اَکْثَرُمَا یُقَالُ الْفَ<mark>اس</mark>ِقُ لِمَنِ الْتَزَمَ حُکْمَ الشَّرْعِ وَ اَقَرَّ بِہٖ ثُمَّ اَخَلَّ بِجَمِیْعِ اَحْکَامِہٖ اَوْبِبَعْضِہٖ کہ ف<mark>اس</mark>ق کا لفظ اکثر <mark>اس</mark> شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو پہلے تو شریعت کے احکام کی پابندی کرے اور ان احکام کو درست سمجھنے کا اقرار کرے لیکن بعدازاں تمام احکام شریعت کو یا بعض احکام کو ترک کر دے۔وَاِذَا قِیْلَ لِلْکَافِرِ الْاَضْلِیِّ فَ<mark>اس</mark>ِقٌ فَـلِاَ نَّـہٗ اَخَلَّ بِحُکْمِ مَا اَلْزَمَہُ الْعَقْلُ وَاقْتَضَتْہُ الْفِطْرَۃُ اور جب شریعت کے احکام کے منکر کے لئے ف<mark>اس</mark>ق کا لفظ <mark>اس</mark>تعمال کریں تو یہ مفہوم مدِّنظر ہو گا کہ