تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 351
۲)ایمان کے نتیجہ میں مادی انعامات قرآن نے تجویز کئے ہیں جو قابل <mark>اعتراض</mark> ہے۔(۳) اگر مرنے کے بعد مادی انعامات ملنے ہیں تو <mark>اس</mark> سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک مرنے کے بعد پھر یہی جسم زندہ کیا جائے گا جو عقل کے خلاف ہے کیونکہ یہ جسم تو فنا ہو جاتا ہے اور ایک ہی جسم کے اجزاء کئی کئی انسانوں میں <mark>اس</mark>تعمال ہو جاتے ہیں پھر وہ جسم کس کس کو ملے گا؟ (۴) اِس آیت میں اور متعدد آیات میں بتایا گیا ہے کہ مومنوں کو جنت میں بیویاں ملیں گی اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جنسی تعلقات بھی ہوں گے جو قابلِ <mark>اعتراض</mark> ہے اور جنسی تعلقات کی خواہش کا اخروی زندگی کے متعلق پیدا کرنا اور بھی قابلِ <mark>اعتراض</mark> ہے نیز جنسی تعلقات تو نسل چلانے کے لئے ہوتے ہیں پھر کیا وہاں بھی نسل چلے گی۔(۵) جنات کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک عیش و طرب کا مقام ہو گا نہ کہ روحانی اور یہ انعام قابلِ قدر نہیں۔خلاصہ ان <mark>اعتراض</mark>ات کا یہ ہے کہ <mark>اس</mark>لام نے محض نفسانی خواہشات کو انگیخت کر کے اُخروی زندگی کو بہت ادنیٰ درجہ دے دیا ہے اور <mark>اس</mark> طرح <mark>اس</mark> زندگی کا پاک مفہوم خراب کر دیا ہے۔مخالفین <mark>اس</mark>لام کے مومنوں کے انعامات پر <mark>اعتراض</mark>ات کی حقیقت کو سمجھنے کےلئے بعض امور کا ذکر ان <mark>اعتراض</mark>ات کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ جنت کے اُس نقشہ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔اوّل۔تو یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے صاف طور پر بیان کر دیا ہے کہ اگلے جہان کے انعامات کا سمجھنا انسانی عقل سے بالا ہے۔پس <mark>اس</mark> <mark>دنیا</mark> کی زندگی سے اُخروی زندگی کا قی<mark>اس</mark> کرنا درست نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(السجدة:۱۸) یعنی کوئی انسان بھی اِس کو نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے لئے اگلے جہان میں کیا کیا نعمتیں مخفی رکھی گئی ہیں۔<mark>اس</mark> سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے بارہ میں جو کچھ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہ تمثیلی زبان میں ہے اور <mark>اس</mark> سے وہ مفہوم نکالنا درست نہیں جو <mark>اس</mark> <mark>دنیا</mark> میں <mark>اس</mark>ی قسم کے الفاظ سے نکالا جاتا ہے۔اگلے جہان کے انعامات کا سمجھنا انسانی عقل سے بالا ہے <mark>اس</mark> مضمون کی تشریح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ(بخاری کتاب بدء الخلق باب ما جاء فی صفۃ الجنّۃ … و مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واھلہا) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے آخرت کی زندگی میں وہ کچھ تیار کر چھوڑا