تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 350
مُطَھَّرَۃٌ۔مُطَھَّرَۃٌ طَھَّرَ سے اسم مفعول مؤنث کا صیغہ ہے اور طَھَرَ (مجرّد) کے معنی ہیں ضِدُّ نَجِسَ پاک ہو گیا اور طَھَّرَہٗ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ طَاھِرًا اسے پاک کیا (اقرب) مفردات میں ہے اَلطَّھَارَۃُ ضَرْبَ<mark>ان</mark>ِ طَھَارَۃُ جِسْمٍ وَ طَھَارَۃُ نَفْسٍ پاکیزگی دو قسم کی ہوتی ہے (۱) جسم<mark>ان</mark>ی (۲) باطنی۔پس اَ زْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ کے معنے ہوں گے پاک ساتھی۔خَالِدُوْنَ۔خَالِدُوْنَ خَلَدَ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے اور اَلْخُلْدُ کے معنے عربی زب<mark>ان</mark> میں یہ ہوتے ہیں کہ اَلْبَقَاءُ باقی رہنا۔اَلدَّوَامُ چلتے ہی چلے ج<mark>ان</mark>ا۔اور خَلَدَ (یَخْلُدُ) خُلُوْدًا کے معنے ہیں دَامَ وَ بَقِیَ دائم رہا اور باقی رہا <mark>کہتے</mark> ہیں خَلَدَ الرَّجُلُ خَلْدً ا وَ خُلُوْدًا اَیْ اَبْطَأَ عَنْہُ الْمَشِیْبُ وَ قَدْ اَ سَنَّ کہ اس آدمی کی عمر زیادہ ہو گئی۔اور بڑھاپا نہ آیا۔خَلَدَ بِالْمَکَ<mark>ان</mark>ِ وَاِلَی الْمَکَ<mark>ان</mark>ِ کے معنے ہیں اَقَامَ بِہٖ کسی جگہ میں ٹھہر گیا بس گیا اور جب خَلَدَ اِلَی الْاَرْضِکہیں تو یہ معنے ہوں گے کہ لَصِقَ بھَا وَاطْمَأَنَّ اِلَیْھَا کہ وہ زمین پر چمٹ گیا اور اس پر مطمئن ہو گیا (اقرب) کلّیاتِ اَبی البقاَء میں ہے کُلُّ مَایَتَبَاطَأُ عَنْہُ التَّغَیُّرُ وَالْفَسَادُ تَصِفُہُ العَرَبُ بِالْخُلُوْدِ کَقَوْلِھِمْ لِلْاَ یَّامِ خَوَالِدُ وَ ذٰلِکَ لِطُوْلِ مَکْثِھَا لَا لِلدَّ وَامِ کہ ہر وہ چیز جس سے تغیر اور فساد دُور رہے اس پر عرب خُلُوْدٌ کا لفظ بولتے ہیں جیسے اَ یَّام کے لئے خَوَالِد کا لفظ بولتے ہیں او ریہ <mark>ان</mark> کی لمبائی کے لئے کہا جاتا ہے نہ اس لئے کہ وہ ہمیشہ رہتے ہیں اور مفردات میں ہے کہ اَلْخُلُوْدُ ھُوَ تَبَرِّ یُّ الشَّیْ ءِ مِنْ اِعْتِرَاضِ الْفَسَادِ وَ بَقَاءُ ہٗ عَلَی الْحَالَۃِ الَّتِیْ ھُوَ عَلَیْہَا کسی چیز کا خراب ہونے سے محفوظ اور اپنی اصلی حالت پر رہنا خُلُودکہلاتا ہے وَاَصْلُ الْمُخَلَّدِ اَلَّذِیْ یَبْقٰی مُدَّۃً طَوِیْلَۃً اور مُخَلَّد کے اصلی معنے اس چیز کے ہیں جو ایک لمبے عرصہ تک رہے۔ثُمَّ اسْتُعِیْرَ لِلْمَبْقِیِّ دَائِمًا پھر ہمیشہ رہنے والی چیز کے لئے یہ لفظ استعارۃً استعمال ہونے لگا۔وَالْخُلُوْدُ فِی الْجَنَّۃِ بَقَاءُ الْاَشْیَاءِ عَلَی الْحَالَۃِ الَّتِیْ عَلَیْہَا مِنْ غَیْرِ اِعْتِرَاضِ الْفَسَادِ اور جنت میں خُلُوْد سے مراد یہ ہے کہ اشیاء بغیر خراب ہونے کے اپنی حالت پر رہیں گی۔تفسیر۔آیت وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ میں مومنوں کےلئے <mark>ان</mark>عامات کے طور پر جنات کا وعدہ اور مخالفین اسلام کے اس پر پ<mark>ان</mark>چ اعتراضات اس آیت میں مومنوں کے <mark>ان</mark>عامات کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ <mark>ان</mark>ہیں جناّت میں جگہ ملے گی جن کے ساتھ نہریں متعلق ہوںگی۔مومنوں کے <mark>ان</mark>عامات کا مسئلہ مخالفین اسلام کے لئے قابلِ اعتراض بنتا چلا آیا ہے اس پر ذیل کے اعتراض کئے جاتے ہیں۔(۱) اس قسم کے <mark>ان</mark>عام کا وعدہ <mark>ان</mark>تہائی درجہ کی لالچ ہے اور کامل ایم<mark>ان</mark> کے منافی ہے کیونکہ جس ایم<mark>ان</mark> کا باعث لالچ ہو وہ ایم<mark>ان</mark> نہیں کہلا سکتا۔