حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 42

حقائق الفرقان لدا سُوْرَةُ الْمُزَّمِّلِ عذاب سے مخالفت کے باعث ڈرایا۔ اس پر کفار مکہ نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اُس کا نشان ہمیں دکھا کہ ہم پر عذاب آوے۔ چنانچہ قرآن مجید اس معاملہ کی اس طرح خبر دیتا ہے۔ فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبُوا مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَّكَّنْهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ تُمَكِّنْ لَكُمْ وَ أَرْسَلْنَا السَّمَاءِ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَ وَجَعَلْنَا الْأَنْهُرَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكُنْهُم بِذُنُوبِهِمْ وَ انْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنَا آخَرِينَ (الانعام: ۶ - ۷) س اس آیت میں بدوں میعاد معینہ کے مطلق تکذیب پر ہلاکت کی خبر دی ۔ پھر فرمایا۔ وَ كَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ لِكُلِّ نَبَا مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ بقیہ حاشیہ ہے کہ آپ بڑے استقلال اور قوی یقین سے مثلیت کا دعویٰ کرتے تھے۔ اور آپ کے مخاطبین تعصب اور حسد کے سوا انکار کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے تھے۔ ( ابن ہشام) مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبِ مُوسَى وَأَخِيهِ وَالْمُصَدِّقِ لِمَا جَاءَ بِهِ مُوسَى، أَلَا إِنَّ اللهَ قَدْ قَالَ لَكُمْ يَا مَعْشَرَ أَهْلِ التَّوْرَاةِ وَ إِنَّكُمْ لَتَجِدُونَ ذلِكَ فِي كِتَابِكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَإِنِّي انْشُدُ كُمْ بِاللَّهِ إِلَّا أَخْبَرُ تُمُونِي هَلْ تَجِدُونَ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِمُحَمَّدٍ فَإِنْ كُنْتُمْ لَا تَجِدُونَ ذُلِكَ فِي كِتَابِكُمْ فَلَا كُرْةَ عَلَيْكُمْ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ - ترجمہ: محمد رسول اللہ کی طرف سے جو موسیٰ کا مثیل اور اس کا بھائی اور اس کی تعلیمات کو سچا کرنے والا ہے۔ اے گروہ اہل تو رات ! دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں فرمایا۔ اور تم اس بات کو اپنی کتاب میں پاتے ہو محمد اللہ کا رسول ہے“ اہے اور میں تمہیں اللہ کی قسم دیا دیتا ہوں ۔ دیتا ہوں ۔ بتاؤ تو سہی جو کچھ اللہ نے تم پر اتارا۔ تم اس میں یہ نہیں لکھا پاتے کہ تم لوگ محمد پر ایمان لاؤ ؟ اگر تم اپنی کتاب میں نہیں پاتے ہو تو میں تمہیں مجبور نہیں کرتا۔ ضلالت اور ہدایت ممتاز ہو چکی ہے ۔ (ابن ہشام جلد نمبر اصفحہ ۱۹۶) لے جھٹلا چکے حق بات کو جب ان تک پہنچی۔ اب آگے آوے گا اُن پر حق اُس بات کا جس پر ہنستے تھے۔ کیا دیکھتے نہیں کتنی ہلاک کیں ہم نے پہلے اُن سے سنگتیں۔ ان کو جمایا تھا ہم نے ملک میں جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان برستا اور بنادیں نہریں بہتی ان کے نیچے۔ پھر ہلاک کیا ان کو ان کے گناہوں پر اور کھڑی کی ان کے پر پیچھے اور سنگت ۔