حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 41

حقائق الفرقان ۴۱ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّلِ - قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ أنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الاعراف: ۳۴) وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ( النساء: ۳۷) ه - إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ ۔ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا - ( النساء:۴۹) وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ - وَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ : لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَ لَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيُوةً وَلَا نُشُورًا (الفرقان: ۴) - وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا اَهْذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولًا - إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ الهَتِنَا لَوْ لَا أَنْ صَبَرُنَا عَلَيْهَا وَ سَوْفَ يَعْلَمُونَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا ۔ (الفرقان: ۴۲-۴۳) ه امر ہشتم ۔ اس پر ہم نے برہانِ نبوت کے واسطے ایک علیحدہ باب قائم کیا ہے۔ اور مفصل مضمون لکھا ہے۔ مگر اس جگہ مختصراً اس مضمون کی تجدید کی جاتی ہے۔ ☆ اول اول آنحضرت نے مکے میں موسی کی مثلیت کا دعوی کیا اور اپنے مخالفین کو آنے والے لے تو کہہ میرے رب نے منع کیا بے حیائی کے کام کو جو کھلے ہیں اُن میں اور جو چھپے ہیں اور گناہ اور زیادتی ناحق کی اور یہ کہ شریک کرو اللہ کا جس کی اس نے سند نہیں اتاری اور یہ کہ جھوٹ بولو اللہ پر جو تم کو معلوم نہیں ہے اور بندگی کرواللہ کی اور ملاؤمت اس کے ساتھ کسی کو ۔ سے تحقیق اللہ نہیں بخشتا ہے یہ کہ اس کا شریک پکڑیے اور بخشتا ہے اُس سے نیچے جس کو چاہے اور جس نے ٹھہرایا شریک اللہ کا اُس نے بڑا طوفان باندھا۔ہے اور لوگوں نے پکڑے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز اور آپ بنے ہیں۔ اور نہیں مالک اپنے حق میں ہیں۔ برے کے نہ بھلے بھلے کے اور نہیں ما لک مرنے کے نہ جینے کے اور نہ جی اُٹھنے کے ۔۵۔ اور جہاں تجھ کو دیکھا کچھ کام نہیں تجھ سے مگر ٹھٹھے کرتے۔ کیا یہی ہے جس کو بھیجا اللہ نے پیغام دے کر ۔ یہ تو لگا ہی تھا کہ بچلا وے ہم کو ہمارے ٹھا کروں سے۔ کبھی ہم نہ ثابت رہتے اُن پر ۔ اور آگے جائیں گے جس وقت دیکھیں گے عذاب۔ کون بچلا ہے راہ سے۔ ۔ اس مقام پر آنحضرت کا خط جو انہوں نے خیبر کے یہود کو لکھا نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے اس سے غرض یہ