حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 30
حقائق الفرقان ۳۰ سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ جاری ہوگا۔ عام طور پر مسلمانوں کو یہ موقع ملا ہوا تو ہے۔ مگر وہ اس کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مسلمان عشاء کے وقت تو سوتے ہی نہیں ۔ مگر اس کو بھی ضائع ہی کر دیتے ہیں ۔ اگر توبہ واستغفار کریں تو اچھا موقع ہے۔ پھر اگر عشاء کے بعد ہی سوجائیں تو چار بجے ان کو تہجد اور توبہ کا موقع مل جائے ۔ بڑے بڑے حکم الہٰی آتے ہیں۔ مگر مزہ ان میں تبھی آتا ہے۔ جب ان پر عملدرآمد بھی ہو۔ انگریزی خوان تو تین تین بجے تک بھی نہیں سوتے۔ پھر بھلا صبح کی نماز کے لئے کس طرح اُٹھ سکتے ہیں۔ اوکپڑے پہننے والو ! تم اتنا کام تو ہمارے لئے کرو کہ ہماری کتاب کے لئے کوئی وقت نکالو۔ میرے بچے بچے نے کہا کہ ہم کو لیمپ لے دو۔ ہم رات کو پڑھا کریں گے۔ میں نے اس کو بھی کہا کہ رات کو لیمپ کے سامنے پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کے لئے دن ہی کافی ہوتا ہے۔ رات کو قرآن شریف پڑھا کرو۔ رات کو اگر تم جناب الہی کو یاد کیا کرو۔ تو تمہاری روح کو جناب الہی سے بڑا تعلق ہو جائے۔ مومن اگر ذرا بھی توجہ کرے۔ تو سب مشکلات آسانی سے دور ہو جاویں۔ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَثَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا - اللہ تعالیٰ کا نام لو ۔ اور رات کو جہان سے منقطع ہو جاؤ۔ مومن کو حضرت یوسف کے بیان میں پتہ لگ سکتا ہے کہ جس شخص کا کسی چیز سے محبت و تعلق بڑھ جاتا ہے۔ تو وہ اپنے محبوب کا کسی نہ کسی رنگ میں ذکر کر ہی دیتا ہے۔ میں جن جن شہروں میں رہا ہوں ۔ اپنی مجلس میں مجھے ان کی محبت سے کبھی نہ کبھی ذکر کرنا پڑتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مجلس میں دو شخص آئے اور کہا کہ ہم نے ایک خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر بتلا دو۔ آپ نے فرمایا۔ کھانے کے وقت سے پہلے ہم آپ کو تعبیر بتلا دیں گے۔ پھر آپ نے کہا کہ دیکھو۔ ہم کو علم تعبیر کیوں آتا ہے۔ تم کو کیوں نہیں آتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے شرک کو چھوڑا تم بھی چھوڑ دو۔ دیکھو دو گھروں کا ملازم ہمیشہ مصیبت میں رہتا ہے۔ کام کے وقت ہر ایک ے مراد میاں عبدالحی ہیں۔ مرتب