حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 29

حقائق الفرقان ۲۹ سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ مزمل ۔ جب تخفیف ز“ پڑھا جاوے گا تو اس وقت معنے حمل اور بوجھ کے ہوں گے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زَ مِل کے نام سے خطاب کرنے میں چند معانی ہیں ۔ ایک یہ کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جو مہر بانی اور تلطف اللہ تبارک و تعالیٰ کو تھا اس کا اظہار مقصود تھا۔ جیسا کہ حضرت علی کو ایک روز مسجد میں خاک پر لیٹے ہوئے دیکھ کر آپ نے از راہ مہربانی و تلطف ان کو یا ابا تراب فرمایا۔ ۔ دوسرے یہ کہ ساری رات کپڑا اوڑھ کر سونے اور ایسی ہی حالت میں رات گزار دینے سے متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس حالت میں کہ بار نبوت کو اٹھانا آپ کا کام ہے تو لازم ہے کہ ساری رات خواب میں نہ گزارا جاوے بلکہ کچھ حصہ رات کا دعا اور نماز کے لئے بھی مخصوص کیا جاوے۔ غرض کہ مزمل کے لفظ میں تلطف اور تنبہ دونوں ہی مرکوز ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۲) ہماری سرکار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم وحی الہی کی عظمت اور جبروت کو دیکھ کر بہت گھبرائے بدن پر لرزہ تھا۔ گھر میں تشریف لائے اور اپنی بی بی سے کہا۔ دیرونِی دَیرُونی میرے بدن پر کپڑا ڈھانپ دو۔ انہوں نے اڑھائے ۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر جناب الہی فرماتے ہیں کہ تمہارا کام سونے کا نہیں ۔ اٹھو اور نا فرمان لوگوں کو ڈراؤ ۔ اور اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارے بیان میں خدا کی عظمت اور جبروت کا ذکر ہو۔ اور قبل اس کے کہ دوسروں کو سمجھاؤ۔ اپنے آپ کو بھی پاک وصاف بناؤ ۔ اس سورۃ میں یوں فرمایا کہ رات کو اٹھو۔ مگر کچھ حصہ رات میں آرام بھی کرو۔ رات کو قرآن شریف بڑے آرام سے پڑھو۔ میری (اپنی) فطرت گواہی دیتی ہے کہ جب کسی عظیم الشان انسان کو کوئی حکم آجاتا ہے اور اس میں کوئی خصوصیت بھی نہ ہو۔ تو چھوٹے لوگ بطریق اولی اس حکم کے محکوم ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک وہ لوگ ہیں ۔ جو خود کپڑا پہننا نہیں جانتے ۔ وہ دوسروں کو لباس تقوی کیا پہنائیں گے۔ پہلے لباس تو پہنا سیکھو۔ جب شرمگاہوں کو ڈھانک لو گے۔ تو تم پر رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا کا حکم