حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 307
حقائق الفرقان سُورَةُ الزِّلْزَالِ ر مین باتیں کرے گی سورج چاند کیوں نہ کریں گے ستارے کیوں خاموش ہیں“ الجواب : 1۔ اول تو سورج اور چاند کی خاموشی کا ذکر نہیں جو آپ کو اس پر تعجب ہوا۔ ۲۔ دوم ستارے بھی تمہارے دیانند کے اعتقاد میں زمین ہی ہیں۔ پس ان کی خاموشی بھی ثابت نہیں۔ کیونکہ وہ بھی زمین ہیں یا زمین کی طرح ہیں۔ پس جیسے یہ زمین باتیں کرے گی ۔ وہ بھی باتیں کریں گے۔ ۔ سوم یہ تا تستھ او پارہی ہے۔ اگر تم کو اس کی سمجھ نہیں تو پڑھو۔ ستیارتھ پرکاش صفحہ نمبر ۲۵۴۔ اہم برہم اسمی کے ارتھ میں لکھا ہے۔ اس موقع پر تا تستھ او پادہی استعارہ ظرف ومظروف کا استعمال ہے۔ جیسے: (منچا گری شرفتا) میچ پکارتے ہیں۔ چونکہ میچ جڑ ہیں۔ ان میں پکارنے کی طاقت نہیں ۔ اس لئے منچ کے جاگزیں آدمی پکارتے ہیں۔ پس اسی طرح اس موقع پر بھی سمجھنا چاہیے۔ ۴- چهارم - تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا کے ساتھ ہے بِأَنَّ رَبَّكَ أولى لها (الزلزال: ۶،۵) بیان کرے گی زمین اپنی خبریں اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کے ذریعہ حکم کیا ہے۔ پس ہمہ سامرتھ (القادر ) سرب شکتی مان (الغنی، القادر ) جو دوسرے کا محتاج نہیں۔ اگر وہ زمین کو فرمادے کہ تو بیان کر تو کیا وجہ ہے کہ پھر بیان نہ کر سکے۔ تم بھی تو قوی خدا داد سے ہی بولتے ہو۔ زمین بھی قومی خداداد سے بول سکتی یا بیان کر سکتی ہے۔ دو پنجم " تحدث میں یہ ضرور نہیں کہ ہماری تمہاری طرح پنجابی یا اردو بولے۔ ہر ایک کا بولنا اس کے مناسب حال ہوا کرتا ہے۔ پھر الفاظ کی ضرورت بھی نہیں ۔ ایک لسان الحال اور ایک لسان الافعال بھی ہوتی ہے۔ اب تم خود سمجھ لو کہ زمین کی لسان کس نوع کی ہے۔ جس سے وہ بولے گی ۔ اور ظرف و مظروف کے استعارہ پر کیوں تم خود سمجھ نہیں سکتے ؟ وحی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ( نور الدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۵۰٬۱۴۹) كُلَّمَا الْقَيْتَهُ إِلى غَيْرِكَ فَهُوَ وَحْی ۔ جو بات کسی کو پہنچائی جاوے وہ وحی ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ عام ہے۔ حتی کہ زمین کی نسبت بھی فرمایا ہے کہ اُسے وحی ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ یومین