حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 225

حقائق الفرقان ۲۲۵ سُوْرَةُ الْفَجْرِ دشمنوں کے مقابلہ کے وقت دعا ہی کا ہوتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے بعض اوقات مخصوصہ و مقامات متبرکہ خاص مناسبت رکھتے ہیں ۔ اس لئے ایک شق ان میں سے جو اوقات مخصوصہ و متبرکہ کی ہے۔ ذکر کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ متبرک ایام ولیالی عشرہ اواخر رمضان المبارک ہیں ۔ ا۔ صبح کو بیسویں کی اعتکاف میں داخل ہوتے ہیں اور یہی مسنون ہے۔ اگر چاند تیسویں کا ہو تو دس راتوں میں اعتکاف ختم ہو جاتا ہے۔ اور اگر چاند انتیس کا ہو تو دنوں کی تعداد جفت اور راتیں وتر ہو جاتی ہیں۔ بعد ختم عشرہ آخره را د ختم عشره آخرہ رمضان المبارک کے شوال کی پہلی رات لیلۃ الجائزہ کہلاتی ہے کہ اس رات میں تمامی ماہِ رمضان المبارک کا اجر و ثواب اللہ تبارک و تعالی بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔ پہلی شب شوال کی بہ اعتبار اس کے کہ سارے رمضان شریف کا ثواب اس میں مرحمت کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں نہایت با برکت رات بیان ہوئی جو وَالَّيْلِ إِذَا يَسْرِ کی مصداق ہے۔ صبح کے اوقات کی نسبت خصوصیت سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ اللَّهُمَّ بَارِكَ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ! اس کے علاوہ ان پانچ باتوں کی تو جیہات اور بھی بیان ہوئی ہیں ما حصل ان سب کا یہی ہے کہ ان سے امکنہ مراد ہوں یا از منہ ۔ لو دعا کے لئے یہ بڑے زبردست ہتھیار ہیں۔ جنہوں نے دشمنوں کی بڑی بڑی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ وَالَّيْلِ إِذَا يَسْرِر سے شب قدر بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ بخلاف اور راتوں کے یہ رات ساری کی ساری بابرکت ہوتی ہے۔ ان دس راتوں کے نظارے کو حشر کے نظارے سے بھی تشبیہ دی اور اس سے یہ بتایا ہے کہ کس طرح پر مختلف حصص عالم سے لوگ اس بیت الحرام کی طرف چلے آتے ہیں ۔ اور جو لوگ مکہ اور عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ وہ ہر طرف ان قوموں کے آثار اور نشانات کو مشاہدہ کرتے ہیں ۔ جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا اور آخر عذاب النبی میں گرفتار ہوئے ۔ جیسا کہ آگے کھول کر بیان کیا ہے۔ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ آیت نمبرے سے نمبر ۱۵ تک اس میں اہلِ مکہ کو یہی سمجھانا مقصود ہے اے اے اللہ تو میری امت کے لئے اس کے صبح کے اوقات میں برکت رکھ دے۔