حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 224
حقائق الفرقان ۲۲۴ سُوْرَةُ الْفَجْرِ سُوْرَةُ الْفَجْرِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ فجر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔ ۲ تا ۶ - وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ - وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَالَّيْلِ إِذَا يَسْرِ هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ - ترجمہ ۔ قسم ہے فجر کی ۔ اور قسم ہے حج کی دس راتوں کی۔ اور اگے دُگنے کی قسم۔ اور رات کی جب وہ گزرتی ہے۔ کیا ان چیزوں میں قسم صاحب خرد کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔ تفسير الفجر رسول کریم صلی ایام کا زمانہ ہے۔ خیر القرون تک تین سو برس ہوئے اور دس راتوں سے مراد دس صدیاں لیں تو کل ۱۳۰۰ ہوئے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ وَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (الفجر : ۴) میں تیرھویں اور چودھویں صدی کی طرف اشارہ فرماتا ہوا وَ الَّيْلِ إِذَا يَسْرِ (الفجر : ۵) کی خبر دیتا ہے یعنی پھر چودھویں میں آفتاب نبوت طلوع کرے گا اگر اس نبی کی اطاعت نہ کریں گے تو وہی ہوگا جو عادیوں اور فرعونیوں کے ساتھ ہوا۔ البدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۵) صبح کا وقت ، دس راتیں ، جفت اور طاق اور رات جبکہ رواں ہو پڑے۔ ان پانچ اوقات متبرکہ ومخصوصہ کو واسطے اظہار ان کی عظمت کے بطور قسم کے یاد فرمایا ہے۔ ان پانچ اوقات متبرکہ مخصوصہ کی تعین میں بہت سے قول بیان ہوئے ہیں۔ جفت اور طاق کی تعین میں وقت کے علاوہ کوئی اور دوسری شئے بھی مراد سمجھی گئی ہے۔ ان سب اقوال میں زیادہ تر اقرب بفہم جو بات معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ چونکہ ان آیات کے مابعد ساتھ ہی ذکر بعض بڑی بڑی قوموں مثلاً عا دارم وغیرہ کی ہلاکتوں کا نبیوں کے مقابلہ کی وجہ سے بیان ہوا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ہتھیار پیغمبروں کے ہاتھ میں