حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 174
حقائق الفرقان ۱۷۴ سُورَةُ الْمُطَفِّفِينَ سب سے بڑی نعمت رویت باری تعالی و دیدار الہی ہے۔ وہاں کی او دیدار الہی ہے۔ وہاں کی نصرت کا باعث یہی ہوگی ۔ گما قَالَ اللهُ تَعَالَى - وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ - إلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ - القيمة : ۲۳ - ۲۴) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۱۳ رجون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۴) ۲۷،۲۶- يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيقٍ مَخْتُومٍ خِتْمُهُ مِسْكَ وَ فِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ - - ترجمہ ۔ ان کو سچی خوشی کا سرور دینے والا شربت جو اوروں کو نصیب نہیں پلایا جائے گا۔ اس کی مہر ( بجائے موم کے ) مشک کی ہوگی اور ہوس کرنے والوں کو چاہئے کہ اس میں پوری ہوس کریں ۔ تفسیر رَحِيقٍ نام شراب کا ہے جس کی صفت قرآن صفت قرآن شریف میں لا فِيهَا غَولٌ وَلَا لَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ - الصفت: ۴۸) ہے۔ مختوم کے کئی معنے ہیں۔ ایک یہ کہ پینے کے بعد دیر تک اس کی خوشبو مسک کی آتی ۔ تی رہے گی ۔ دوسرے یہ کہ اس کا تل چھٹ ایسا ہے جیسا مسک ۔ تیسرے یہ کہ سر بمہر کہ سوائے ان مدارج والوں کے دوسروں کو نہ ملے گی۔ اور جیسے یہاں مہر کے لاک ہوتی ہے وہ مہر مسلک سے لگائی جاوے گی ۔ ختمه مِسك ۔ تنافس کے معنے نفسا نفسی کرنے کے ہیں۔ جھگڑے کے بھی ہیں ۔ یہ مبارک لفظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں بھی ہے جو کتاب البریہ میں درج ہے۔ مخالفوں میں پھوٹ اور متنافس سگ دیوانہ پر پھٹکار۔ اس تنافس کو جس کا جی چاہے کتاب البریہ میں دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ میں فرمایا کہ تسابق و تنافس یعنی ایک دوسرے پر نعمت کے حاصل کرنے میں پیش دستی کرنا۔ دنیا کی جاہ و حشم و صدرنشیں یا نعمتوں پر کوئی پائیدار چیز نہیں۔ اگر کرنا ہے تو في ذلك یعنی ان رَحِيقٍ مختوم وغیرہ پر کرو۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱ ۱ مورخه ۱۳ رجون ۱۹۱۲ صفحه ۳۱۴) لے بہت سے چہرے اس دن تازہ۔ اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ ہے وہ شراب ایسی ہے کہ اس سے عقل نہیں ماری جاتی ۔ ہلاک نہیں ہوتا ۔ چکر نہیں آتا اور نہ اس سے نشہ ہوتا ہے۔