حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 151

حقائق الفرقان ۱۵۱ سُورَةُ عَبَسَ گا۔ میں اسے ذلیل کروں گا۔ یہی قتل ہے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۸) ۲۲- ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ - ترجمہ ۔ پھر اُس کو اللہ نے مارا اور اُسی نے اس کو گاڑا۔ تفسیر - قبرة - قبر میں رکھا اس کو اور اقبرہ قبر میں رکھوا یا اس کو ۔ ۲۸ - فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا - ترجمہ ۔ پھر ہمیں نے اس میں اناج اگایا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۸) تفسیر ۔ ہر قسم کے دانوں اور اناج کو کہتے ہیں ۔ لغت میں اس کے معنے پر ہونے کے ہیں۔ جب تک دانہ خام رہتا ہے اور مغز سے پوری طرح بھر نہیں جاتا۔ حبّ نہیں کہلاتا۔ محبت پورے کمال کے ساتھ سوائے ذات محبوب حقیقی کے کسی سے جائز نہیں ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبَّ اللَّهِ ) (البقره: ١٦٦) اس کے بالمقابل سورۃ سورة یوسف میں فرمایا ہے ۔ قَدْ شَغَفَهَا حُبًا - (یوسف:۳۱) یوسف: ۳۱) حدیث شریف میں ہے حُبُّكَ لِشَيْءٍ يُعْمِيكَ وَ يُصِمُّ - محبت کسی چیز کی انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ حضرت صاحب کی ایک نظم دعوئی سے پیشتر کی ہے۔ جس کا مطلع شعر یہ ہے۔ اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی ہے اس آیت میں حبّ یعنی پر مغز دانوں کا بیان ہے۔ انسان کو بھی چاہیے کہ اپنے آپ کو حِبّ اور حب پر مغز بنائے ه پک کے گر جاتا ہے میوہ خاک پر خام ہے جب تک رہے افلاک پر ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۸) ے اور ایمان داروں کو تو ( سب سے بڑھ کر اللہ ہی کی محبت ہوتی ہے ۔ ۲ دل چیر کر یوسف کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔ سے اے محبت تو نے عجیب آثار دکھلا دیئے ہیں کہ یار کی رہ میں پہنچنے والے زخم اور مرہم دونوں کو برابر کر دیا ہے ۔