حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 143
حقائق الفرقان ۱۴۳ سُورَةُ النُّزِعَتِ فَقَضُهُنَّ ( حم السجدة: ۱۲ ، ۱۳) اختلاف کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ دُخو سے مطلق بسط اور پھیلا نا ہی مراد نہیں ہے۔ بلکہ نباتات کا نکالنا اور چشموں وغیرہ کا جاری کرنا بھی دُخو میں شامل ہے اور یہ بے شک بعد پیدائش آسمان کے ہوا ہے۔ یعنی جو چیزیں خدائے تعالیٰ نے زمین میں مخفی رکھی تھیں وہ آسمان کی پیدائش کے بعد مکمن قوة سے حین فعل میں آئیں ۔ یہی زمین کا دخو ہے سورۃ فصلت کانم تاخیر کے لئے نہیں بلکہ ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاء کے معنے فصلت سورۃ میں یہ ہیں کہ پس آسمانوں کے تسویہ کی طرف متوجہ ہوا جو پہلے سے تھیں۔ اس سورۃ نازعات میں بھی بٹھا کہہ کر بناء آسمان یعنی تعدم بنائے آسمان کو قرار دیا ہے۔ سورہ فضلت میں تھر ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ وہاں صرف نعمتوں کا شمار مقصود ہے جیسا کہ تو رات کی نسبت فرمایا ۔ ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ (الانعام : ۱۵۵) اور یہاں اول بناء آسمان اور پھر دخو ارض کا ذکر ہے کا ہے۔ ۳۳- وَالْجِبَالَ أَرْسَهَا - ترجمہ ۔ اور پہاڑوں کو قائم کیا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۶) تفسیر - آنسها - مضبوط بنایا ان کو ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱ اپریل ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۶) ۳۵۔ فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى - ترجمہ تو جب وہ بڑا ہنگامہ آجائے گا۔ تفسير - الطامة الكبرى - طامة بڑی گھمسان ۔ گھوڑا چلنے اور دوڑنے میں اپنی ساری قوت خرچ کر دے ۔ تو اس وقت کم الْفَرْسُ طَمِيما بولا کرتے ہیں ۔ ۳۸- فَأَمَّا مَنْ طَغَى - ترجمہ ۔ تو جس شخص نے سرکشی کی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۶) تفسیر۔ طغیانی حد سے باہر ہو جانا۔ ندی نالوں کا پانی جب حد سے باہر نکل پڑتا ہے۔ تو طغیانی ۔ ا پھر متوجہ ہوا آسمان کی طرف اور وہ دھواں تھا پھر اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ خوشی سے یا ز بر دستی حاضر ہو جاؤ۔ دونوں نے عرض کی ہم تو بخوشی حاضر ہیں ۔ پھر سات آسمان بنا دیئے۔ ۲ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ۔