حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 81
حقائق الفرقان M سُورَةُ الزُّمَرِ ۵۲ - فَأَصَابَهُمُ سَيِّاتُ مَا كَسَبُوا وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمُ سَيِّاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ ترجمہ ۔ پھر اُن کو ملیں اُن کے اعمال کی سزائیں اور ان لوگوں میں سے جن لوگوں نے بے جا کام کئے ان کو بھی قریب ہی پہنچے گی ان کے کرتوتوں کی سزا اور وہ تھکا نہیں سکتے ۔ تفسير - وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ ۔ اور نہ وہ عاجز ہیں ۔ مطلق عاجز کر دینا چونکہ نشانِ نبوت نہ تھا جیسے بار ہا ذکر کیا۔ رسالت مآب کے اثبات نبوت میں قرآن نے یہ ناقص لفظ ترک کر کے آیت اور آیات اور برہان کا لفظ استعمال فرمایا اور خرق عادت کا لفظ چونکہ بالکل غیر صحیح تھا اس لئے اسے صاف ترک کر دیا۔ ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۷۰) ۵۴ - قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - ترجمہ ۔ کہہ دے اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر خطا کر بیٹھے ہو اپنے ہاتھ سے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ بے شک اللہ ڈھانپتا ہے تمام گناہوں کو ۔ کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ تفسیر ۔ کہہ دواے بندو میرے جنہوں نے زیادتی کی اپنی جان پر ۔ نہ آس تو ڑو اللہ کی مہر سے بے شک اللہ بخشتا ہے سب گناہ ۔ وہ جو ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا ۔ مہربان۔ ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۰۰ حاشیه ) خدا تعالیٰ کے حضور پہنچنے کیلئے دو باز و ضروری ہیں۔ ۱۔ ایمان ۲ عمل صالح ۔ اسْرَفُوا - خطا کاری (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) ۵۵ - وَ ابْبُبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا دور دور تنصرون ترجمہ ۔ بشرطیکہ رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور پورے فرمانبردار فدائی بن جاؤ اس سے پہلے کہ تم پر نازل ہو عذاب ( کیونکہ عذاب آنے پر ) تمہاری مدد نہ کی جائے گی ۔