حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 314
حقائق الفرقان ۳۱۴ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ہے اور وہ روح قوم میں نہ رہی جو وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا - (ال) (آل عمران : ۱۰۴) میں رکھی گئی تھی ۔ یعنی مختلف فرقے ، شیعہ سنی ، خوارج ، مقلد ، غیر مقلد، جبرید قدریہ وغیرہ کے بکھیڑوں اور قضیوں پر نگاہ کرو تو عظیم الشان تفرقہ نظر آئے گا۔ میں نے اکثر لوگوں سے پوچھا ہے کہ یہ فرقہ بندیاں کیوں ہیں؟ اکثروں نے کہا ہے کہ سب فرقے قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں۔ میں نے نہایت تعجب اور افسوس کیساتھ اس قسم کی دلیری اور جرات کو دیکھا ہے۔ اور سنا ہے۔ قرآن شریف تو اختلاف مٹانے کو آیا ہے۔ اور یہی اس کا دعوی ہے جو بالکل سچا ہے۔ پھر یہ اختلاف اس کے ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ کیا معاذ الله قرآن شریف موم کی ناک ہے کہ جدھر چاہی پھیر دی یا وہ اپنے اس دعوی میں معاذ اللہ سچا نہیں جو اس نے اختلاف مٹانے کا کیا ہے؟ پھر یہ ایمان کیوں رکھتے ہو۔ میری سنو! قرآن شریف آیات محکمات ہے۔ وہ لا ریب اختلاف مٹانے کے لئے حکم ہے مگر اس پر مسلمانوں نے توجہ نہیں کی اور اس کو چھوڑ دیا۔ وہ اپنی نزاعوں کو قرآن شریف کے سامنے عرض نہیں کرتے ۔ مجھے ایک بار لاہور کے شیعوں کے محلہ میں وعظ کرنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے کہا کہ شیعوں سنیوں کے اختلاف کا قرآن سے فیصلہ ہو سکتا تھا۔ اگر یہ توجہ کرتے ۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ قرآن سے ہی استدلال کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ قرآن موجود ہے ۔ آپ ہی بتا دیں کہ کہاں سے استدلال کیا ہے۔ غرض قرآن کو ہر گز حکم اور فیصلہ کن نہیں مانتے ۔ اس پر ایمان ہوتا تو بڑی صفائی سے یہ بات سمجھ تو میں آ جاتی کہ سچی توجہ کے لئے ایک کامل الایمان مز کی اور مطہر کی ضرورت ہے جو اپنی قدسی قوت کے اثر سے دلوں کے زنگ کو دور کرے۔ بدوں مزکی کے یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی ! اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے ۔ بلکہ وسیع نظارہ قدرت میں اس کے نظائر موجود ہیں ۔ ا اور مضبوط پکڑو، اپنے آپ کو بچاؤ حبل اللہ کے ذریعہ سے اور ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔