حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 313
حقائق الفرقان ۳۱۳ سُورَةُ الْجُمُعَةِ تال اور سر کے ذریعہ مٹ سکتا ہے یا خود بخود؟ اور قرآن شریف جو اختلاف مٹانے کا مدعی ہے اور سچا مدعی ہے۔ اس نے کیا راہ بتائی ہے؟ میں بڑے دردِ دل سے ان مباحث اور لیکچروں کو پڑھا کرتا ہوں جو اسی زمانہ میں مسلمانوں کے تنزل کے اسباب پر دیئے جاتے ہیں۔ اسباب تنزل اور اسباب ترقی کے بیان کرنے میں ہمارے ریفارمر ( خود ساختہ ) اور مصلح قرآن شریف کو مس نہیں کرتے اور تفرقہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف میں علاج نہیں دھونڈتے ۔ میں نے ان لیکچروں اور سیچوں کو پڑھ کر در دول کے ساتھ یہی لکھا ہے۔ یچوں کو پڑھ کر در دو يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: (۳) غرض میں اس عظیم الشان اختلاف کو ابھی پیش کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ یہ کیونکر دور ہو سکتا ہے؟ دیکھو ایک چیز ہے جس کا نام ایمان ہے۔ اور ایک کا نام عمل ۔ ان دونوں کا باہم مقابلہ کرو اور سوچ کر بتاؤ کہ کیا ان میں موافقت ہے؟ کیا حال اور قال یکساں ہے؟ اگر نہیں ! اور یقینا نہیں !! تو پھر کیوں صاف دلی کے ساتھ یہ اقرار نہیں کیا جاتا کہ ایک مزکی کی ضرورت ہے۔ جو انسان کو اس نفاق سے جو اس کے اندر ایمان اور عمل کی عدم موافقت سے پیدا ہو رہا ہے۔ دور کرے۔ اگر بر اعلم کوئی چیز ہوتا۔ معرفت صحیحہ کی ضرورت نہ ہوتی ۔ اگر اس قوت اور کشش کی حاجت نہ ہوتی جو انسان پر اپنا عمل کر کے اس کے دل کو صاف کرنے میں معاون اور مددگار ٹھیرتی ہے۔ جو مز کی کی تاثیر صحبت اور پاک انفاس کی برکت سے ملتی ہے۔ جس کی طرف كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ کہہ کہ مولیٰ کریم نے توجہ دلائی ہے۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ پھر اسی پارسی لسان الغیب کو کیا حاجت اور ضرورت تھی جو وہ بول اٹھا کہ مشکلی دارم دانشمند مجلس باز پرس! ۲ اس ایمانی اور عملی اختلاف کے ماوراء اور اختلاف ہے جس نے قوم کے شیرازہ کو پراگندہ اور منتشر کر دیا ا اے میرے رب ! بے شک میری قوم نے اس قرآن شریف کو چھوڑ دیا تھا۔ میری اس مشکل کو اہل علم سے حل کرواؤ۔