حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 19
حقائق الفرقان ۱۹ سُورَةُ يُسَ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میں چند گھنٹے دنیا کی ٹھہرنے والے کی نسبت بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس نے روایت میں جھوٹ بولا ۔ اور نہ د مجموعی طاقت ایسے اتہام کو ثابت کر سکتی ہے۔ پس جس نبی میں یہ نور و ہدایت ہو کہ اس کی صحبت آدمی کو اعلیٰ درجہ کا راست باز بنا دے۔ کیا وہ جھوٹا ہو سکتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بھی خدا پر ۔ خدا نے کچھ وحی نہیں کی۔ اور وہ کہے مجھ پر وحی ہوئی ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۵۱، ۵۲ مورخه ۲۷ را کتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۰) ۱۸ ۱۹ - وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلغُ الْمُبِينُ - قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرُنَا بِكُمْ لَئِنْ لَّمْ الْبَلغُ الْمُبِينُ قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَسَنَكُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ - ترجمہ ۔ اور ہم پر تو صرف کھول کر پہنچا دینا ہی ہے۔ قوم نے کہا ہم نے تم کو نا مبارک پایا اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں ضرور پتھروں سے مار دیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ٹیس دینے والا عذاب پہنچے گا۔ تفسیر الْبَلغُ الْمُبین - کھول کر بات پہونچا دینا ۔ تطيرنا ۔ بڑے بڑے دکھ دیکھے ہیں۔ تمہارے سبب سے۔ واقعی جب نبی آتا ہے۔ طاعون ، قحط ، ہیضہ اور ہر قسم کی بلائیں آتی ہیں۔ اس میں ایک منشاء ایزدی ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ لَعَلَّهُمُ يَتَضَرَّعُونَ (الانعام: ۴۳) یعنی شوخی ، بے باکی سے باز آ کر خدا کے حضور گریہ وزاری کریں۔ اخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضْرَّعُونَ - (الاعراف: ۹۵) اس سے طائر کا مسئلہ بھی حل ہوتا ہے۔ جہاں انسان جاوے اس کے ساتھ چیل کوے جاتے نظر آویں تو یہ فتح مندی کا نشان ہے۔ (۲)۔ اسی طرح ہوا کا رُخ ادھر ہو جدھر سے یہ جاوے تو یہ بھی کامیابی کا تفاؤل ہے ۔ (۳) ۔ جانور بیٹھ جاوے جس پر سوار ہوں (جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ وہاں کے رہنے والوں کو سختی اور تکلیف میں لیا تا کہ وہ لوگ گڑ گڑا ئیں اور عاجزی کریں۔