حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 274 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 274

حقائق الفرقان ۲۷۴ سُوْرَةُ الْحَشْرِ سے سب کاروبار عالم بند ہو جائیں۔اور کوئی نظام سلطنت قائم نہ رہے۔<mark>قرآن</mark> <mark>پاک</mark> کی <mark>تعلیم</mark> <mark>وَلْتَنْظُرُ</mark> <mark>نَفْسٌ</mark> <mark>مَّا</mark> <mark>قَدَّمَتْ</mark> <mark>لِغَدٍ</mark> پر <mark>عمل</mark> <mark><mark>کر</mark>نے</mark> سے <mark>انسان</mark> نہ <mark>صرف</mark> <mark>دنیا</mark> میں <mark>کامران</mark> ہوتا ہے <mark>بلکہ</mark> <mark>عقبی</mark> میں بھی <mark>خدا</mark> کے <mark>فضل</mark> سے <mark>سرخرو</mark> <mark>ہوگا</mark>۔ہم <mark>کبھی</mark> <mark>آخرت</mark> کے <mark>لئے</mark> <mark>سرمایہ</mark> <mark>نجات</mark> <mark>جمع</mark> نہیں <mark>کر</mark> <mark>سکتے</mark> جب تک آج ہی سے اس دار القرار کے <mark>لئے</mark> تیاری نہ شروع <mark>کر</mark> دیں۔( تشحیذ الا ذبان جلد نمبر ۵۔ماہ مئی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۲۲۸،۲۲۷) چاہیے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے۔<mark>انسان</mark> کے ساتھ ایک نفس لگا ہوا ہے۔جو ہر وقت متبدل ہے۔کیونکہ جسم <mark>انسان</mark>ی ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے۔جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت تحلیل ہورہا ہے۔اور اس کے ذرات جدا ہوتے جاتے ہیں۔اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں۔اور اس کی حفاظت کے واسطے سامان مہیا کئے جاتے ہیں۔تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہیے جس کے ذمہ موت کے بعد کی جواب دہی لازم ہے۔اس آنی فنا والے جسم کے واسطے جتنا ف<mark>کر</mark> کیا جاتا ہے۔کاش کہ اتنا ف<mark>کر</mark> اس نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواب دہی <mark><mark>کر</mark>نے</mark> اتنا والا ہے۔إنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔اس آگاہی کا لحاظ <mark><mark>کر</mark>نے</mark> سے آخر کسی نہ کسی وقت فطرت <mark>انسان</mark>ی جاگ <mark>کر</mark> اسے ملامت <mark>کر</mark>تی ہے۔اور گناہوں میں گرنے سے بچاتی ہے۔( بدر جلد ۲ نمبر ۵۰ مورخه ۱۳ / دسمبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۹) مومن کو چاہیے کہ جو کام <mark>کر</mark>ے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا <mark>ہوگا</mark>؟ <mark>انسان</mark> غضب کے وقت قتل <mark>کر</mark> دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے۔مگر وہ سوچے کہ اس کا انجام کیا <mark>ہوگا</mark>؟ اس اصل کو مدنظر رکھے تو تقوی کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔نتائج کا خیال کیون<mark>کر</mark> پیدا ہو۔اس <mark>لئے</mark> اس بات پر ایمان رکھے کہ وَاللهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ جو کام تم <mark>کر</mark>تے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔<mark>انسان</mark> اگر یہ یقین <mark>کر</mark>لے کہ کوئی خبر وعظیم بادشاہ ہے۔جو ہر قسم کی بدکاری، دغا، فریب، سستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے۔اور اس کا بدلہ دے گا۔تو وہ بچ سکتا ہے۔ایسا ایمان پیدا <mark>کر</mark>و۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نو<mark>کر</mark>ی ، حرفه، مزدوری وغیرہ میں سستی <mark>کر</mark>تے ہیں۔ایسا <mark><mark>کر</mark>نے</mark> سے رزق حلال نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ سب کو تقوی کی توفیق دے۔(الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۰۱۹ مورخه ۲۸،۲۱ رمئی ۱۹۱۱ صفحه ۲۶)