حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 273
حقائق الفرقان ۲۷۳ سُوْرَةُ الْحَشْرِ تفسیر۔ تقوی اللہ اختیار کرو۔ اور ہر ایک جی کو چاہیے کہ بڑی توجہ سے دیکھ لے کہ کل کیلئے کیا کیا۔ جو کام ہم کرتے ہیں ان کے نتائج ہماری مقدرت سے باہر چلے جاتے ہیں۔ اس لئے جو کام اللہ کے لئے نہ ہو گا تو وہ سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ لیکن جو اللہ کے لئے ہے تو وہ ہمہ قدرت اور غیب دان خدا جو ہر قسم کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے اس کو مفید اور مثمر ثمرات حسنہ بنادیتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۳) اے ایمان والو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہرنفس کو چاہیے کہ دیکھتا رہے کہ کل کے لئے اس نے کیا کیا اور تقوی اپنا شعار بنائے ۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس سے خوب آگاہ ہے۔ اور جوکچھ غرض دنیا و عقبی میں کامیابی کا ایک گر بتایا کہ انسان کل کی فکر آج کرے۔ اور اپنے ہر قول وفعل میں یہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ میرے کاموں سے خبردار ہے۔ یہی تقوی کی جڑھ ہے۔ اور یہی ہر ایک کامیابی کی روح ورواں ہے۔ برخلاف اس کے انجیل کی یہ تعلیم ہے جو ( متی ) باب ۶ آیت ۳۳ میں مذکور ہے بایں الفاظ کہ کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کرے گا آج کا دکھ آج کے لئے کافی ہے“۔ اگر ان دونوں تعلیموں پر غور کریں تو صرف اسی ایک مسئلہ سے اسلام و عیسائیت کی صداقت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اور ایک نیک دل پارسا طالب نجات، طالب حق خوب سمجھ لیتا ہے کہ عملی زندگی کے اعتبار سے کون سا مذہب احق بالقبول ہے۔ اگر انجیل کی اس آیت پر ہم کیا، خود انجیل کے ماننے والے عیسائی بھی عمل کریں تو دنیا کی تمام ترقیاں رک جائیں اور تمام کاروبار بند ہو جائیں۔ نہ تو بجٹ بنیں ۔ نہ ان کے مطابق عمل درآمد ہو۔ نہ ریل گاڑیوں اور جہازوں کے پروگرام پہلے شائع ہوں۔ نہ کسی تجارتی کارخانے کو اشتہار دینے کا موقع ملے۔ نہ کسی گھر میں کھانے کی کوئی چیز پائی جائے۔ اور نہ غالباً بازاروں سے مل سکے۔ کیونکہ کل کی تو فکر ہی نہیں ۔ بلکہ فکر کرنا ہی گناہ ہے۔ برخلاف اس کے قرآن مجید کی تعلیم کیا پاک اور عملی زندگی میں کام آنیوالی ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ عیسائیوں کا اپنا عمل درآمد بھی اسی آیت پر ہے۔ ورنہ آج ہی