حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 241

حقائق الفرقان ۲۴۱ سُورَةُ الرَّحْمَنِ سُوْرَةُ الرَّحْمَنِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ رحمن کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے اسم شریف سے جو پہلے سے نیک راہ سکھلانے والا ہے اور عمل کرنے والوں کو نیک نتیجے دینے والا ہے۔ ۲، ۳ - الرَّحْمنُ - عَلَّمَ الْقُرْآنَ - ترجمہ ۔ رحمن نے قرآن سکھایا ہے۔ تفسیر انسان بڑا کمزور، ناتواں اور ست ہے۔ علم حقیقی سے بہت دور ہے۔ آہستگی سے ترقی کر سکتا ہے ہم تم تو چیز ہی کیا ہیں ۔ اُس عظیم الشان انسان علیہ الف الف صلوۃ والسلام کی بھی یہ دعا تھی کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا - (طه: ۱۱۵) تو جب خاتم الانبیاء، افضل البشر" کو بھی علمی ترقی کی ضرورت ہے جو الْقَى النَّاسِ أَخْشَى النَّاس - اَعْلَمُ النَّاس ہیں اور ان کے متعلق الرَّحْمٰنُ - عَلَّمَ الْقُرْآنَ وارد ہونے کے باوجود بھی ان کو ترقی علم کی ضرورت ہے تو ہم وشا ۔۔۔۔۔ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں کہ ہم علمی ترقی نہ کریں اگر میں کہہ دوں کہ مجھے کتابوں کا بہت شوق ہے اور میرے پاس اللہ کے فضل سے کتابوں کا ذخیرہ بھی تم سب سے بڑھ کر موجود ہے۔ اور پھر یہ بھی اللہ کا خاص فضل ہے کہ میں نے ان سب کو پڑھا ہے اور خوب پڑھا ہے اور مجھے ایک طرح کا حق بھی حاصل ہے کہ ایسا کہہ سکوں ۔ مگر بایں میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے علم کی ضرورت نہیں۔ بلکہ مجھے بھی ترقی علم کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔ علم سے میری مراد کوئی دنیوی علم اور ایل۔ ایل۔ بی یا ایل۔ایل۔ڈی کی ڈگریوں کا اے اے میرے رب! مجھے علم اور زیادہ دے۔