حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 171
حقائق الفرقان ۱۷۱ سُورَةُ الْأَحْقَافِ کوئی نئی چیز نہیں ہے تو اعتراض کیوں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں؟ ان کے معترضوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ الحکم جلد ۶ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۲ ء صفحه ۸ ) قُلْ مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ ۔ ان کو کہہ دو کہ میں نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا۔ نئے رسول کیلئے مشکلات ہوتی ہیں لیکن جس سے پہلے اور رسول اور نواب اور ملوک اور راست باز گزر چکے ہیں اس کو کوئی مشکلات نہیں ہوتیں ۔ جن ذرائع سے پہلے راست بازوں کو شناخت کیا ہے۔ وہی ذریعے اس کی شناخت کیلئے کافی اور حجت ہیں ۔ تعلیم میں مقابلہ کر لے۔ اس کا چال چلن دیکھ لے کہ پہلے راست بازوں جیسا ہے یا نہیں ۔ دشمن کو دیکھ لے کہ اسی رنگ کے ہیں یا نہیں ۔ آدمی کو ایک آسان راستہ نظر آتا ہے مگر خدا کے فضل سے مجھے محض اللہ ہی کے فضل سے اس آیت کے قُلْ مَا كنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ کے بعد راست باز کی شناخت میں کوئی مشکل نہیں پڑی۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲ ) قُلْ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف : ۱۰) کہہ دے میں کوئی نیا رسول دنیا میں نہیں آیا دنیا میں مجھ سے پہلے رسول آتے رہے ہیں تم نے اگر کسی کو راستباز اور صادق مانا ہے تو جس قاعدہ اور معیار سے مانا ہے تو وہی قاعدہ اور معیار میرے لئے بس ہے۔ میں نے قرآن شریف کے اس استدلال کی بنا پر بارہا ان لوگوں سے جو حضرت میرزا صاحب کے متعلق سوال اور بحث کرتے ہیں پوچھا کہ تم نے کبھی کسی کو دنیا میں راستباز اور صادق تسلیم کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تو وہ ذریعے اور معیار کیا تھے؟ جن ذریعوں سے تم نے صادق تسلیم کیا ہے پھر میرا ذمہ ہوگا کہ اس معیار پر اپنے صادق امام کی راستبازی اور صداقت ثابت کر دوں۔ صداقت ثابت کر دوں۔ میں نے بارہا اس گر اور اصول سے بہتوں کو لاجواب اور خاموش کرایا ہے اور یہ میرا مجرب نسخہ ہے اس راہ سے اگر چلو تو تم تمام مباحث کا دو لفظوں میں فیصلہ کردو۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخه ۷ ار نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۴)