حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 110

حقائق الفرقان ١١٠ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ ۸۴- فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - ترجمہ ۔ پھر جب اُن کے پاس آئے اُن کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر تو یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جوان کے پاس علم تھا اور الٹ پڑا اُن پر وہی جس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ تفسیر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقویٰ اللہ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔ اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔ خواہ کسی قسم کا علم ہو۔ وجدان کا ، سائنس کا ، صرف و نحو یا کلام یا اور علوم ۔ غرض کچھ ہی ہو انسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔ راست باز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بجھ سکتی۔ بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان ۔ اَعْلَمُ بِالله اتقی الله آخشی اللہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سچے علوم، معرفتیں ، سچے بیان اور عمل درآمد میں کامل تھا۔ اس سے بڑھ کر، اعلم ، اتقی اور اخشی کوئی نہیں ۔ پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا - ( : ۱۱۵) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کیلئے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقہ کیلئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی۔ جس قدر وہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرے گا۔ جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بجھا ہوا محسوس کرے۔ اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کو استغفار اور دعا کرنی چاہیے کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلا ہے جو اس کیلئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔ ے کہا کراے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے ۔