حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 68
حقائق الفرقان ٦٨ سُورَةُ طُهُ جو اپنی سلامتی صدق نیت، شفقت على خلق الله ، غَايَةُ البُعْدِ عَنِ الْأَغْنِيَاء ، آسانی ، جودت طبع ، سادگی، دور بینی کی صفات سے فائدہ پہونچاتے ہیں۔ (الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۷ اراپریل ۱۹۰۱ صفحه ۴) قرآن مجید پر غور کرنے سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( جو اعلم باللہ اور جامع کمالات نبوت و انسانیت ہیں ) کو اللہ تعالیٰ نے ایک دعا تعلیم فرمائی ۔ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ۔ ( اے میرے رب میر اعلم زیادہ کر دے ) ۔ میں بھی کہتا ہوں رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا آمین ) تو پھر اور کون شخص ہے جس کو علم کی ضرورت نہیں ۔ یہ یت : فضیلت علم کو ظاہر کرتی ہے وہاں دوسری طرف ضرورت علم پر بھی دلیل ہے۔ الحکم جلد ۲۰ نمبر ۰۲۰ ۲۰ مورخه ۲۸ جون ۱ ۲۸ رجون ۱۹۱۸ ء صفحه (۴) فنسی ۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ آدم با وجود حکم تاکیدی کے کس طرح بھول گیا۔ میں انہیں پوچھتا ہوں ۔ گھر سے اہتمام کے ساتھ مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے آتے ہیں۔ اور پھر اس میں سہو ہو جاتا ہے۔ یہ کیوں؟ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا - حضرت آدم علیہ السلام نے گناہ کا ارادہ نہ کیا تھا۔ ارادہ سے اس شجرہ کو نہیں کھایا۔ ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۲، ۳۳ مورخه ۹ رجون ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۹) اگر چه آدم علیہ السلام شیطان کے کہنے پر نہ چلے۔ مگر مدت کے بعد وہ درخت کے پاس جانے کی الہی ممانعت کو بھول گئے ۔ ایسی بھولوں سے بچنے کے واسطے باری تعالیٰ نے ہمارے بادی اور سردار عالم رحمت عالمیاں کو قرآن کریم کے یاد رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے آدم علیہ السلام کا قصہ فرمایا ہے۔ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهِ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا وَ لَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا له : ۱۲،۱۵) :۱۱۵، ۱۱۶) اور اسی نسیان پر آدم علیہ السلام کو عطى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوى - (طه: ۱۲۲) ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۱۱۷) ے اور جلدی مت کر قرآن سے۔ قبل اس کے کہ اُس کی وحی تجھ پر پوری ہو۔ اور کہو اے رب مجھے علم زیادہ دے۔ اور ہم نے آدم سے عہد کیا۔ وہ بھول گیا اور اس میں اس کا کوئی قصد نہ تھا۔ کے آدم نے اپنے رب کا عصیان کیا اور بہک گیا۔