حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 560

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 52

حقائق الفرقان ۵۲ سُورَةُ طَهُ ۷۲،۷۱۔ فَالْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هُرُونَ وَ مُوسَى قَالَ امَنْتُمُ لَهُ قَبْلَ أَنْ اذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَيْكُمُ السِّحْرَ فَلَا قَطِعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَ لَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَ ابْقَى - ترجمہ ۔ پھر گرائے گئے اور گر پڑے جادو گر فرمانبردار ہو کر اور کہنے لگے ہم نے ہارون اور موسیٰ کے رب کو مانا۔ فرعون بولا تم نے مان لیا اس کو اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں بے شک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے تو اب میں ضرور کاٹ ڈالوں گا تمہارے ہاتھ اور پیر خلاف ورزی کی وجہ سے اور تمہیں کھجور کی ڈالیوں میں صلیب دوں گا تا کہ تم جان لو کہ ہم میں سے زیادہ سخت عذاب کرنے والا اور دیر تک رہنے والا کون ہے۔ تفسیر ۔ اس زمانے کے علماء فَالْقِي السَّحَرَةُ سُجَّدًا سے سبق لیں کہ جب حق ظاہر ہو جائے تو مان لیں مگر میں نے ناقص العلم طالبعلموں کو بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور نہیں مانتے۔ جب میں رامپور تحصیل علم کے لئے گیا۔ تو میرے دل پر ہندوستانیوں کے علم کا بہت رعب تھا۔ ایک دفعہ شرح جامی کے ایک فقرہ پر بحث ہو رہی تھی میری سمجھ میں ایک جواب آیا تو میں نے پہلے سوال کی تقریر کی پھر اس کا جواب دیا۔ اس پر سب لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ مجھے اس بات کی تلاش تھی کہ کسی سبب سے بڑے عالم کا پتہ لگ جائے ۔ اس واسطے میں نے کہا جو آپ کا بڑا عالم ہے کے پاس محاکمہ کرالو۔ چنانچہ وہ ایک عالم کے پاس گئے ۔ وہاں جا کر میں نے تمام معا کیا۔ تو انہوں نے میری تصدیق کی اور کہا کہ مولوی صاحب آپ کا جواب بالکل صحیح ہے۔ بس اس دن صرف مجھے مولوی کہلانے کی خوشی ہوئی کہ پچھلا پڑھا ہوا صحیح ہو گیا۔ معاملہ ۔۔۔۔۔مسلمانوں کے علماء کا مذاق ایسا خراب ہو رہا ہے کہ وہ کسی کی بات کو ماننا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابیں دیکھ جاؤ إِنْ قُلْتَ فَأَقُولُ اِعْتِرَاضٌ عَلَيْهِ - رَدَّ عَلَيْهِ فِيهِ سے پر ہیں ۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب حق بات ہو تو اسے فورا مان لو اور اس پر مباحثہ مت کرو۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۴، ۴۵ مورخه ۵ اکتوبر ۱۹۱۱ صفحه ۱۲٬۱۱)