حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۴) — Page 50
حقائق الفرقان ۵۰ سُورَةُ طَهُ تفسیر۔ یہ ایک ادب تھا جو ساحران موسیٰ کے کام میں آیا اور اس برکت میں ان کو ہدایت نصیب ہوئی ۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۵٬۴۴ مورخه ۵ راکتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۱۱) اما ان تلقی - صوفیاء نے لکھا ہے۔ یہ ادب ان کے کام آیا اور وہ مسلمان ہو گئے ۔ أَنَّهَا تَسْعَى - حِبَالٌ وَعِصِی کے رنگ میں جو کچھ تدابیر جمع کر رکھی تھیں ۔ وہ لوگوں کو ایسا خیال پڑتی ہیں کہ وہ مظفر و منصور ہونے میں سعی کر رہی ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخه ۱۹ رمئی ۱۹۱۰ ء صفحه ۱۶۷) ان کی رسیاں اور سونے قوت متخیلہ کو چلتے معلوم ہوتے تھے۔ (یعنی) ان کے رسے اور ڈنڈے ان کے واہموں اور تخیلوں کو چلتے نظر آئے اور ساحروں نے عام لوگوں کی آنکھوں کو دھو کے میں ڈالا اور ڈرانا چاہا اور بڑا دھوکہ کیا۔ یہ نظارہ قانونِ قدرت اور سائنس کے نزدیک ایسا واقعی اور صاف ہے کہ بڑی تشریح کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔ ساحروں کے سحر یعنی دھو کے بازوں کے ڈھکو سلے جہاں غیر واقعی طور پر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں وہاں بڑے مرتاض ، یوگی، جن اور ان سب سے برتر جناب النبی سے مؤید و منصور قوم انبیاء ورسل اور ان کے مخلص اتباع کی حقیقت بھری آیات و معجزات دھو کے بازوں کے جھوٹ اور افتراء کو تباہ کر کے واقعات کا اظہار دنیا پر کر دیتے ہیں۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹر ائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹۸ - ۲۰۰) ۶۸، ۶۹ - فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسى - قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى - ترجمہ ۔ تو موسیٰ دل ہی دل میں ڈرے۔ ہم نے کہا تو ڈرمت بے شک تو غالب رہے گا ( یعنی اکثر مرتد نہ ہوں گے تیری قوم غالب ہو جائے گی )۔ تفسیر فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسی ۔ سے یہ نہ سمجھو کہ حضرت موسیٰ " ساحروں سے ڈر گئے کیونکہ پیغمبران الہی کی شان میں آیا ہے لَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا الله پس ان کو خوف تھا کہ لوگ مرتد نہ ہو جاویں۔ ( بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۴، ۴۵ مورخه ۵ ر اکتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۱۱) فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِہ ۔ یہ ڈر نہیں تھا کہ ہم پر غالب ہو جائیں گے یا خدا کا دین باطل ہو جائے گا ۔ بلکہ انبیاء کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کم فہمی سے ابتلاء میں پڑکر دین حق سے